شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق ایسی خبر آ گئی کہ ن لیگ پریشان ہو گئی

مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 23 اگست کو عدالت میں پیشی کے موقع پر گرفتار کئے جانے کا امکان ہے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز سمیت بعض دیگر لیگی رہنما پہلے سے جیل میں‌ ہیں‌ اور مقدمات بھگت رہے ہیں. اسی طرح شہباز شریف بھی چوہدری شوگر ملز کیس اور لاہور ویسٹ‌ مینجمنٹ کمپنی سکینڈل میں کرپشن الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ 23 اگست کو عدالت میں‌ پیش ہوں‌ گے، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ‌ شہباز شریف کو اس موقع پر گرفتار کیا جاسکتا ہے تاہم اس سلسلہ میں حکومت کا باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے،

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف گرفتاری سے بچنے کیلئے کمر درد کا بہانہ بنا رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے معاملات میں‌ ہمیشہ سیاستدانوں اور دیگر اہم شخصیات کی
جانب سے کمر درد کا بہانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ کمر درد کا کوئی ایسا ٹیسٹ نہیں‌ ہوتا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ مریض‌ جھوٹ بول رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں‌ ہے، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی بات کا اس لئے بھی اعتبار نہیں کیا جارہا کہ پہلے بھی وہ کمر درد کی بات کرتے رہے ہیں لیکن جب اسمبلی میں خطاب کی باری آئی تو انہوں نے ڈیڑھ گھنٹہ تک کھڑے ہو کر خطاب کیا اور انہیں اس میں‌کوئی پریشانی نہیں‌ ہوئی،

واضح‌ رہے کہ چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو نیب لاہور نے پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے جس کے بعد اب مزید تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اس کے شیئر ہولڈر شہباز شریف کو 23 اگست کو طلب کیا گیا ہے۔ چودھری شوگر ملز کیس میں کروڑوں ڈالر کی مبینہ منی لانڈرنگ کی گئی جس کے حوالے سے شیئر ہولڈرز سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں، اسی طرح لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سکینڈل میں بھی کرپشن الزامات پر شہباز شریف کو 23 اگست کو طلب کر لیا گیا ہے۔ شہبازشریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود کمپنی بنانے کی منظوری دی اور بیرون ممالک سے کمپنیوں کو لا کر مہنگے داموں ٹھیکے دئیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.