شہباز گل پر قانو ن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد کیا گیا، عمران خان

0
87
لانگ مارچ،عوامی مقام پرعمران خان گاڑی سے باہر نہ نکلیں،سیکورٹی ایڈوائزری جاری

پی ٹی آئی کے زیراہتمام اسلام آباد اور لاہورمیں شہباز گل کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئی. تاہم ایف نائن پارک میں تحریک انصاف کی ریلی منی جلسے کی شکل اختیار کر گئی.

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تما م کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین آتی ہیں،نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہماری خواتین کا دھیان رکھیں،24گھنٹے میں کال پر بڑے شہروں میں حقیقی آزادی کیلئے لوگ باہر نکلے،اس وقت پاکستان میں لوگوں میں دہشت پھیلائی جا رہی ہے، لوگوں کو غلام بنانے کیلئے ڈرایا جاتا ہے،شہباز گل پر تشدد کر کے اور ذہینی طور پر اسے توڑ سکتے ہیں تو یہ کسی سے بھی کر سکتے ہیں،یہ آپ سب کیلئے فیصلہ کن وقت ہے، شہباز گل پر تشدد ہوسکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے،شہباز گل پر قانو ن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد کیا گیا.

عمران خان کا کہنا تھا کہ زرداری،فضل الرحمان اور مریم نواز نے شہباز گل سے بھی سخت باتیں کیں، پہلی بار سوئی ہوئی قوم جاگ رہی ہے ،25مئی کبھی یہ قوم نہیں بھولے گی، 25مئی کو ایک پرامن احتجا ج کیا جا رہا تھا،پرامن احتجاج پر شیلنگ کی گئی، تشدد کیا گیا،ان چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا، عوام کے اس سمندر کو جو آزادی چاہتے ہیں آپ نہیں روک سکتے ،شہباز گل پر 2دن تشدد کیا گیا،آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو نہیں چھوڑیں گے،آئی جی اور ڈی آئی جی پر کیس کریں گے،مجسٹریٹ صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں آپ کیخلاف بھی ایکشن لیا جائے گا، شہباز گل پر کیس ہوسکتا ہے تو ہم فضل الرحمان ،نواز شریف ،رانا ثنااللہ کیخلاف بھی کیس کریں گے،انہو ں نے قا نون کی بالادستی کی دھجیاں اڑاد دیں،ساری قوم سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے.

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں آپ کیخلاف بھی کیس کریں گے،سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ قانون اور آئین پر عمل کروائے،

قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعطم عمران خان اسلام آباد ریلی کے شرکا سے خطاب کیلئے زیرو پوائیٹ پہنچے تھے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان زیرو پوائنٹ سے ریلی کی قیادت کی.عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی ایف نائن پارک پہنچی.تحریک انصاف کے کارکنان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ریلی میں شریک ہوئے، کارکنوں نے ہاتھوں میں پارٹی پرچم تھام رکھے تھے.

دوسری طرف تحریک انصاف کے زیر اہتمام لاہور کےلبرٹی چوک سے ریلی نکالی گئی ،تحریک انصاف کےعمر سرفراز چیمہ ، محمود الرشید سمیت دیگر رہنماوں نے لبرٹی چوک سے ریلی کی قیادت کی پی ٹی آئی کی ریلی لبرٹی چوک سے داتا دربار پر اختتام پذیر ہوگئی..

اس سے قبل اسلام آباد انتظامیہ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ریلی کو سیکیورٹی دینے سے معذرت کر لی۔ ترجمان ڈی سی اسلام آباد کے مطابق تحریک انصاف نے ریلی کی اجازت اور سکیورٹی کے لیے درخواست دی تھی تاہم ٹھوس وجوہات کی بنا پر ریلی نکالنے اور سیکیورٹی مہیا کرنے سے معذرت کی گئی۔

انہوں نے تبایا کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر گزشتہ کئی روز سے دفعہ 144 نافذ ہے، قیادت کے ساتھ ساتھ ریلی شرکا کی قیمتی جانیں بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ترجمان ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ زیرو پوائنٹ سے ایف نائین پارک تک روڈ پر ٹریفک کا شدید دباؤ بھی سیکیورٹی رسک بن سکتا ہے، پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان کی درخواست کا بروقت جواب بھجوا دیا گیا ہے۔

Leave a reply