شاہد خاقان عباسی فیض آباد دھرنا کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے

جو ہوا بطور وزیر اعظم میری ذمہ داری تھی دھرنا ختم کرنے کے لیے معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا,شاہد خاقان عباسی
0
121
faizabad

راولپنڈی:سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم فیض آباد دھرنا کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوگئے۔

باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے کمیشن کی جانب سے ایک ٹیلی فون کال پر بلایا گیا تھا جوکہ جنرل تحقیقات کر رہا ہے، البتہ جو ہوا بطور وزیر اعظم میری ذمہ داری تھی دھرنا ختم کرنے کے لیے معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا، دھرنے میں اگر کسی نے قانون توڑا تو قانونی کارروائی ہونی چاہیے، فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے معاہدے کا ڈرافٹ میں نے نہیں دیکھا تھا، اسے ختم کرانے کا فیصلہ حکومت کا تھا۔

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا، وہ اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک وزیراعظم رہے دو روز قبل راولپنڈی میں فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا تھا، تین رکنی کمیشن نے پنجاب پولیس کے سابق سربراہ عارف نواز اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ سلطان اعظم تیموری اور راولپنڈی ڈویژن کے سابق کمشنر ندیم اسلم چوہدری کو بھی طلب کیا تھا۔

حج اسپانسر شپ اسکیم کا کوٹہ 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کر …

گزشتہ روز عارف نواز نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز میں اپنی مصروفیات کو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے کا جواز بنایا سلطان اعظم تیموری اور ندیم اسلم چوہدری منگل کو وزارت داخلہ میں اس کے دفتر میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئےان افسران کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے۔

سابق آئی جی پولیس سلطان اعظم تیموری نے کمیشن کو بتایا تھا کہ انہیں 8 دسمبر 2017 کو دارالحکومت کا پولیس چیف مقرر کیا گیا تھا جب کہ ٹی ایل پی کا دھرنا 24 اکتوبر کو شروع ہوا اور اسی سال 27 نومبر کو ختم ہوا، اس عرصے کے دورا وہ ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ تھے دھرنے کے سلسلے میں درج مقدمات کی پیروی پولیس نے حکومت کی ہدایت کے مطابق اس کے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے کی۔

سونے کی قیمت میں اضافہ

سلطان اعظم تیموری نے اس طرح کے دھرنوں سے نمٹنے کے لیے ایک علیحدہ ایںٹی رائٹ فورس تشکیل دینے کی سفارش کی اس کے علاوہ ایسے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبہ، ایس او پیز اور پیشگی تیاری کی جانی چاہیے،سلطان اعظم تیموری سے اسلام آباد پہنچنے والے مظاہرین کو روکنے میں ناکامی اور دھرنے کے لیے ٹی ایل پی کو سہولت فراہم کرنے والوں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی گئی دونوں سابق عہدیداروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد کمیشن نے کارروائی آج بروز بدھ تک ملتوی کردی تھی-

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیا تھا،20 نومبر سے فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا۔

لاہور میں مالکن نے گھریلو ملازمہ کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی

Leave a reply