کورنٹائن کے دوران تنہائی میں اللہ سے تعلق قریب ہوا ، روحانی سکون ملا ، معروف گلوکارسلمان احمد کی مبشرلقمان سے گفتگو

لاہور:کورنٹائن کے دوران تنہائی میں اللہ سے تعلق قریب ہوا ، روحانی سکون ملا ، معروف گلوکارسلمان احمد کی مبشرلقمان سے گفتگو، اطلاعات کے مطابق باغی ٹی وی ٹرانسمیشن میں پاکستان کے مروف گلوکار سلمان احمد نے نیویارک سے براہ راست پاکستان کے سنیئر تجزہ نگارمبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے کرونا وائرس مین مبتلا ہونے کے بعد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بہت خوبصورت باتیں کیں

ان کا کہنا تھا کہ جب ان کو یہ پتہ چلا کہ وہ کرونا کا شکارہیں تو جو انہوں‌ نے 14 دن کورنٹائن میں تنہائی کےساتھ گزارے ہیں وہ ان کی زندگی کے بڑے اہم ترین دن ہیں‌، اس دوران اللہ سےتعلق انتہائی قریب ہوا، روحانی طورپرسکون ملا اوراب میں اللہ کے فضل وکرم سے صحت مند ہوں‌

 

سلمان احمد کہتے ہیں کہ نیویارک کے جس علاقے میں وہ مقیم ہیں وہ کرونا وائرس کا گڑھ ہے ، یہاں 18 ہزار سے زائد لوگ کرونا کے وائرس میں زندگی اورموت کی کشمکش میں ہیں ہسپتالوں میں لاشیں ہی لاشیں ہیں ، یہ وقت بھی آنا تھا کہ ہسپتالوں میں ماسک نہیں ہوں گے . علاج نہیں ہوگا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا اس آزمائش میں ہے ،

سلمان احمد کہتے ہیں کہ انہیں اس دوران نزلہ زکام اورسر میں درد محسوس ہوا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کرونا وائرس کا شکارہوچکے ہیں اب آپ کرونٹائن ہوجائیں اورجوپھر14 دن گزارے ہیں وہ بھی میری زندگی میں ہمیشہ یاد رہیں گے

سلمان احمد نے کہا کہ اس دوران ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی ویکسین نہیں ہے ، اپ اپنی غذا کو بہترکریں تو انہوں نے بتایا کہ ان کہ اہلیہ نے اس حوالے بہت مدد کی اورہلدی . لہسن اورپیاز کے مرکب کے ساتھ میرا غذائی علاج کیا جومیرے لیے بہت بہترثابت ہوا ،سلمان احمد نے حدیث مصطفیٰ سناتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا کہ جس جگہ وبا ہووہاں جانا نہیں اوراس علاقے سے نکلنا بھی نہیں چاہیے ، سلمان احمد نے مزید کہاکہ یہ بھی حکم ہےکہ اگراپ بیٹھے ہیں تو کھڑا نہیں ہونا اوراگرکھڑے ہیں کھڑے ہیں

سلمان احمد نے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے سورہ کہف کی تلاوت کی اور انہیں یاد ہے کہ اس وقت بھی اس معاشرے میں‌ کرپشن اوربرائی عام ہوگئ تو چند نوجوان شہرچھوڑ کے کسی غارمیں چلے گئے اورانہوں نے کورنٹائن اختیارکی ، یہ قرآن مجید میں‌بھی موجود ہیں

سلمان احمد نے کہا کہ ہمیں اللہ کی حکمتوں پرشاکررہنا چاہیے اورقرآن سے یہ سیکھنا چاہیے کہ جس طرح حضرت خضرعلیہ السلام اورموسیٰ علیہ االسلام کے درمیان جوگفتگو اور معاملات چلے وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں اورہمیں ان سے بھی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اچھے لوگوں سے برے اوربروں سے اچھے لوگ بھی نکل سکتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.