بھارتی فوج کے ہاتھوں پہلے سے لاک ڈاون مقبوضہ کشمیرکوآج تاریخ کے مشکل ترین لاک ڈاون کا سامنا ، رات سے نیاسلسلہ شروع

سرینگر:بھارتی فوج کے ہاتھوں لاک ڈاون مقبوضہ کشمیرکوآج تاریخ کے مشکل ترین لاک ڈاون کا سامنا ، رات سے کشمیریوں پرسختی کا نیاسلسلہ شروع،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلا وکی روک تھام کو یقینی بنانے کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں بدھ کے روز بھی مکمل لاک ڈان کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث وادی کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔

لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا بغیر ایمرجنسی کے کسی بھی شخص کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔تجارتی مرکز لال چوک کے ساتھ ساتھ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔لوگوں پر نظر رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے ڈرون کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوروناوائرس کے متاثر افراد کی تعداد 7تک پہچ گئی ہے جن میں جموں کے 4 اور کشمیر وادی کے 3مثبت کیسز شامل ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک 4765 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یا تو بیرون ممالک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں سے 7 افراد کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

2928 افراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز میں سے دو کا تعلق دارالحکومت سرینگر اور تیسرے کا تعلق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر کے نواحی شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع 625 برس قدیم تاریخی جامع مسجد کا انتظام و انصرام چلانے والی انجمن اوقاف نے کورونا وائرس کے پھیلا کے خطرات کے پیش نظر فی الحال جامع مسجد میں تمام اجتماعی نمازیں موقوف کرنے کا اعلان کیا ہے۔انجمن اوقاف کی سربراہی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.