fbpx

کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا

لاہور:کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،اطلاعات کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کے بارے میں جہاں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں جاری ہیں وہاں کچھ خطرناک حقائق نے پریشان کردیا ہے

اس حوالے سے اس حساس معاملے پرسب سے پہلے توجہ مبذول کروانے والے پاکستان کے سینیئر صحافی مبشرلقمان ہیں جنہوں نے ایک انتہائی حساس پہلوکوبیان کرکے واقعہ کی سنگینی سے آگاہ کیا

مبشرلقمان جو کہ کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں انہوں نے ایک نجی ٹی وی میں اس حوالے سے اینکرصابرشاہ سے پوچھا کہ ایک خاتون کا اس طرح حملہ کرنا اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں

مبشرلقمان نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کسی خاتون کی طرف سے خودکُش حملہ دنیا میں کہیں دیکھنے میں نہیں آیا سوائے فلسطین میں

اس کے جواب میں صابر شاہ نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان ایک انتہائی حساس پروجیکٹ ہے جس کوامریکہ ،بھارت اور چین اور پاکستان کے دیگرمخالف ملک پسند نہیں کرتے وہ اس بڑے منصوبے کوبرداشت بھی نہیں کرتے ، صابر شاہ کا کہنا تھا کہ ان حالات میں یقینا یہ قوتیں اس منصوبے کوثبوتاژکرنے میں کوشاں ہیں

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں اس منصوبے پراس لیے کام کی رفتار کم کردی گئی تھی کہ سیکورٹی خدشات لاحق تھے اور پھر ہوا بھی ایسے ہی تھا

اب معاملہ تو ویسے ہی بہت عجیب سا ہوگیا ہے کہ احسن اقبال کے سپرد سی پیک کو کردیا گیا ہے وہ اس کو دشمن سے کس طرح پروٹیکٹ کرسکتے ہیں ، اس کے لیے سی پیک اتھارٹی ہے اس کو فعال کرنا چاہیے ،

 

خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے، اطلاعات میں اس حوالےسے جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق خاتون کی شناخت شیری بلوچ کے نام سےکرلی گئی ہے جو دوسرے صوبے سے زولوجی میں ایم ایس کرچکی ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور زولوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کر رہی تھی خاتون حملہ آور کا شوہر بھی ڈاکٹر ہے خاتون حملہ آور 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی۔

دوسری جانب جامعہ کراچی خودکش بم دھماکےسےمتعلق رپورٹ پولیس چیف کوارسال کر دی گئی ہے۔ خودکش دھماکےسےمتعلق رپورٹ ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سےبھیجی گئی۔

رپورٹ کے مطابق وین کو دوپہر01:55 پر انسٹیٹیوٹ جامعہ کراچی میں نشانہ بنایا گیا دھماکےمیں 3چینی شہری اورپاکستانی ڈرائیورخالدنوازجان سےگئے جب کہ ایک غیرملکی، 2رینجرز اہلکاروں سمیت5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عینی شاہدین اور تکنیکی شواہد سے واقعہ خودکش دھماکامعلوم ہوتاہے۔

ادھر انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کی وین میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو ایک خاتون نے کیا۔

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں دھماکا دیکی کے بعد کیا گیا، بارودی مواد لوکل نہیں لگ رہا، اسکول بیگ کی طرح کوئی ڈیوائس بنائی گئی تھی جسے خودکش بمبار نے اپنی بیک پر لگایا ہوا تھا۔

کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

غلام نبی میمن نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ زخمیوں میں ایک غیر ملکی اور ایک رینجرز اہلکار شامل ہے۔

بی ڈی ایس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بھاری مقدار میں اسٹیل بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا۔

بی ڈی ایس حکام کے مطابق ایک میٹر کے فاصلے سے خودکش حملہ کیا گیا، جسم کے اور برقع کے ٹکڑے حاصل کرلیے گئے ہیں۔