fbpx

سپریم کورٹ کےحکم کے باوجود،تبدیلی اراضی کاگھناونا کھیل جاری

سپریم کورٹ میں تبدیلی اراضی کیس کی سماعت آج ہو گی یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں تبدیلی اراضی کے قوانین اور دیگر قانون کے تحت رہائشی اراضی تبدیل کرکے ایسے 903پلاٹس کی تمام تجارتی بنیاد کے ہر قسم کی تبدیلی سے روک دیا گیا ہے اور 22جنوری2019کو سپریم کورٹ نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق پابندی تاحکم ثانی وجودہے، سپریم کورٹ میں بروز جمعہ (آج)9اپریل کو مقدمہ نمبر815-K/2018 کی سماعت ہو گی ۔سابق ڈی جی افتخار قائم خانی نے 24جنوری 2019ء کے اپنے حکمنامہ میں ایسے مالکان، اٹارنی، قابضین،کرایہ داران، بلڈرز وغیرہ جو کہ ایسے پلاٹس، بلڈنگز، آفسز، ریسٹو رانٹس، گیسٹ ہاوئسز، میرج ہالز، اسکولز، مارکیٹ،پیٹرول پمپس، سی این جی پمپس اور دیگر کسی قسم کی تشکیل پر کوئی قانونی ٹائٹل یاحق رکھتے ہوں جہاں مذکورہ کمرشل بزنس رفاہی پلاٹس یا رہائشی پلاٹس،KDA/KMC/BOR، کاپرایٹو سوسائٹیز، کچی آبادیاں، کنٹوٹمنٹ بورڈز اوردیگر علاقے منظوری این او سی کی بنیاد پر یا این او سی کے بغیر ہیں انہیں اگاہ کیا تھاہے کہ مذکورہ بالاکیس میں سپریم کورٹ حکمنامہ کی تعمیل میں تمام پلاٹس، زمینوں کو ان کے اصل استعمال کے مطابق بحال کرنا لازمی ہے جس مقصد کے لئے مذکورہ زمین کا تعین کیا گیا تھا جیساکہ اصل لینڈیوز اورلے آوٹ پلان میں واضح کیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ کی واضح ہدایت پر سب سے ذیادہ عملدآمد نہ کرنے والا ادارہ ماسٹرپلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کراچی کے مختلف کنٹوٹمنٹ بورڈ ز سمیت دیگر ادارے پابند ی کے باوجود تمام ادارے کھلے عام عدالت کے توہین عدالت کا یہ سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 2016ء سے 2019ءتک ایسے 903پلاٹس جن کی تبدیلی اراضی کرکے تجارتی بنیاد پر کردیا گیا تھا تمام پلاٹوں کی حیثیت تاحکم ثانی عدالت نے روک دیا گیا تھا، پلاٹس نمبرG-24،بلاک 9کلفٹن کراچی، 898بتاریخ 20اگست2018ء کو تجارتی بنیاد پر فیصلے منسوخ کرتے ہوئے رہائشی پلاٹ قراردیدیا گیا، جن پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈ نگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے فہرست جاری کیا گیا ہے اس میں یہ پلاٹ شامل ہے ماسٹر پلان SBCA،کلفٹن کنٹوٹمنٹ بورڈز نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑتے ہوئے پلاٹ کے تبدیلی اراضی کا قوانین کو استعمال کرتے ہوئے تمام امور کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ کلفٹن کنٹوٹمنٹ بورڈ نے سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے برخلاف 35اسکوئر فٹ روڈ پر رہائشی عمارت کو کمرشل اور 20منزلہ عمارت تعمیرات کا غیر قانونی نقشہ جاری ہوتے ہی اچانک تعمیرات میں تیزی آگئی ہے،سپریم کورٹ نے حکمنامہ بتاریخ22جنوری 2019ء کو جاری کیا،جس کے نتیجے میں کراچی کے کلفٹن، نارتھ ناظم آباد، فیڈریل بی ایریا، ملیر ٹاون،گلشن اقبال، گلستان جوہر، نارتھ کراچی اور دیگر سوسائیٹز کے 903رہائشی پلاٹس کو تجارتی بنانے کا حکمنامہ ماسٹر پلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منسوخ اور اجازت نامہ واپس لے لیاتھادلچسپ امریہ کہ ماسٹرپلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر 35اسکوئر ٖفٹ روڈ پر رہائشی پلاٹ کو تجارٹی بنیاد پر اجازت نامہ جاری کیا تھاجس کو سپریم کورٹ کے ایک حکمنامہ کے ذریعہ کراچی میں تبدیلی زمین کی حیثیت کو منسوخ کردیا گیاہے لیکن کنٹوٹمنٹ بورڈ کلفٹن نے رہائشی پلاٹس کوجانچ پٹرتال کے بغیر پلاٹ G-24، 3700 اسکوئریارڈ زمین پر 20منزلہ کمرشل بلڈنگ کی تعمیرات کا نقشہ منظورکیا ہے غیر قانونی عمل میں کنٹوٹمنٹ بورڈ کے افسران نے بلاک 8/9کلفٹن میں رہائشی مکانات اور بنگلے پر بلند و بالا عمارت کی تعمیرات کی اجازت نامہ طویل عرصے سے جاری ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد پنجاب کالونی، پی این ٹی کالونی، دہلی کالونی، بلاک 8/9کلفٹن میں تجارتی بنیاد پر کئی کئی منزلہ یعنی بلند وبالا عمارتوں کی تعمیرات کا نوٹس بھی لے چکے ہے اور کنٹوٹمنٹ انتظامیہ کو انہدامی کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے، لیکن ا یک رہائشی پلاٹسG-24بلاک 9کلفٹن کراچی میں بغیر کسی منصوبہ کے رات کی تاریکی میں تعمیرات کے دوران زوردار دھم دھم کی آواز شاہراہ عبدالخالق جامی روڈ کے اطراف جاری ہے، ایک رہائشی بنگلہ میں 20منزلہ عمارت کی تعمیرسے بلاک 9کلفٹن کے مکینوں کو پانی، سیوریج کے مسائل کے علاوہ تما م اد گرد مکین متاثر ہوں گے، بجلی اوردیگر بحران پہلے ہی علاقے میں جنم لے رہی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر ماسٹرپلان نے جی 24پلاٹس کا رہائشی حیثیت میں تبدیلی کا فیصلے واپس لینے کے باوجود تعمیرات جاری ہے، اور تمام بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ بشمول کنٹوٹمنٹ بورڈز کلفٹن کی ایگزیکٹو کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا لیکن رشوت،کمیشن اور کیک بیک کی وجہ کنٹوٹمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے رہائشی پلاٹ کے20منزلہ نقشہ منظور کرکے کمرشل تعمیرات کی اجازت دیدیا ہے، اس بارے میں پلاٹ کے اطراف رہائشی مکینوں کاسخت اذیت کا شکار ہے۔منظور احمد کاکا نے بعض آلہ کار اور قریبی ذرائع کا دعوی کیا تھا، اور لامحدود اختیارات کے باعث شہر کی بربادی کا باقاعدہ ٹھیکہ بھی دیدیا گیا، اور سابقہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جرنیلوں، جن میں منظور احمد کاکا، آغا مقصود عباس، نور محمد، ممتاز حیدر، افتخار احمد قائم خانی،ظفر احسن، آشکار داور، شمش الدین سومرو شامل ہیں، کو اختیارات دینے والی ”ناپسندیدہ” ترامیم پر اب تک کسی فورمم سے کوئی انگلی نہی اٹھیں جس کے نتیجے میں متعدد سیاستدانوں، میڈیا گروپوں اور بیوروکریٹس کو ونڈفال منافع حاصل ہوا اور اربوں کھربوں روپے رشوت، کمیشن،کیک بیک سمیت شہریوں کے جبیوں میں وصول کیاہے ایڈوکیٹ ناصر احمد نے کہا کہ یہ ترامیم بلدیاتی نظام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں اور یہ بلدیاتی اداروں کے حق غصب کرنے کے مترادف ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.