fbpx

تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تا حیات نہیں، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے،

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے ،وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہاکہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ
فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی ،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے،امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے کہا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے کہا کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا،

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کر دی،عدالت نے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

واضح رہے کہ ،الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوہری شہریت کی بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی

فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں