طالبہ اجتماعی زیادتی، ملزموں کے گرد گھیرا مزید تنگ
باغی ٹی وی : کراچی کے علاقے گلشن حدید میں گیارہویں جماعت کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کیس میں پولیس نے مزید دو ملزمان کوگرفتار کرلیا، چاروں ملزمان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں، آج لیب روانہ کیا جائے گا۔
تفتیشی حکام کے مطابق تمام ملزمان کے موبائل فونز تحویل میں لے لئے ہیں، متاثرہ لڑکی کا موبائل فون بھی پولیس کے پاس ہے۔
کراچی کے علاقے گلشن حدید میں گیارہویں جماعت کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کیس میں پولیس نے مزید دو ملزمان کوگرفتار کرلیا، چاروں ملزمان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں، آج لیب روانہ کیا جائے گا۔
تفتیشی حکام کے مطابق تمام ملزمان کے موبائل فونز تحویل میں لے لئے ہیں، متاثرہ لڑکی کا موبائل فون بھی پولیس کے پاس ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے موبائل فون سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے انہیں دیا گیا ہے، لڑکی کے بتائےگئے مقام کی سی سی ٹی وی ویڈیو کا انتظار ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ ڈی این اے، سی سی ٹی وی اور موبائل فونز کے فارنزکس کے بعد ہی کیس میں پیش رفت ہوسکے گی۔
واضح رہے کہ فرسٹ ائیر کی طالبہ سے اغواء کے بعد اجتماعی زیادتی،اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن حدید میں فرسٹ ائیر کی طالبہ کو اغواء کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا .
کراچی کے علاقے گلشن حدید سے اغواء ہونے والی فرسٹ ائیر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوگئی جبکہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں اسٹیل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اس حوالے سے بچی کے والد کا کہنا ہے کہ بشرا راجپر کو کالج سے چھٹی کے وقت گلشن حدید سے اغو کیا گیا ،بشرا کو 9 فروری کو اغوا کیا گیا اور 10 فروری کی صبح پولیس نے اطلاع دی کے بچی ڈفینس میں بے ہوشی کی حالت میں ملی ہے ۔ والد کہتے ہیں کہ میری بیٹی کو اغوا کرنے والوں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر ڈفینس میں بے ہوشی کی حالت میں پھینک دیا،








