تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

0
42

جیسی خطرناک بیماری نے دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام شعبہ جات کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس موزی بیماری کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں  تاکہ طلبہ کی تعلیم پر کوئی حرج نہ آئے۔

اگر کرونا وائرس سے پہلے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تب ہم اپنے لئے تعلیم صرف کتابوں کی حد تک محدود رکھتے تھے۔ ہم روزانہ اپنی یونیورسٹی کالج یا سکول جاتے تھے اور ہمیں جو کتابوں سے رٹا رٹایا سلیبس دیا جاتا تھا ہم وہ یاد کرتے تھے اور اسی کو سمجھتے تھے کہ یہی آئندہ پیپرز  میں بھی آۓ گا۔ اسی امید کے ساتھ ہم لوگ کسی چیز کو انٹرنیٹ کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے تمام مواد کتابوں سے بھی دیا جاتا تھا۔

بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ کتابوں کا رزلٹ آتا ہے اکثر طلبہ اگر رٹا رٹایا سلیبس نہ لکھیں تو ان کو کم نمبر دیے جاتے ہیں۔

اگر ہم بات کریں کہ اس کو ‏covid-19 کی وجہ سے ہماری کلاسیں آن لائن پڑھائی جا رہی ہیں تو کیا ہم اس کو مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں؟

میرے مشاہدے کے مطابق میرے دوست، احباب میں جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے پورے سمسٹر میں اپنی پڑھائی کا آغاز پیپر سے دو دن پہلے شروع کیا کیونکہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیپر کا دورانیہ8 گھنٹے ہو گا اور اتنے زیادہ وقت میں ایک بہترین قسم کا پرچہ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم انٹرنیٹ اور کتابوں کا اچھے سے استعمال کریں۔

بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو کہ گروپ کی شکل میں اپنے تمام تمام پیپرز حل کرتے ہیں اور جو آپس میں میل جول نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے اپنے پرچے باہمی مشاورت کے ساتھ حل کر لیتے ہیں۔

بظاہر اس تمام صورتحال میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے  ہیں کیونکہ کہ اس ٹیکنالوجی کا اور اس صورتحال کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

جہاں پر اتنی زیادہ تنقید کی گئی ہے وہاں پر ہمیں مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہوگا کمالیہ میں ایک انٹر کی طالبات جو کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے اس نے تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ہے طالبہ نے 1100/1100 نمبر حاصل کر کے آج تک کے تمام تعلیمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں. پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں 

 ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت استعمال کریں۔

جب ہمارے ہاتھوں میں ڈگری موجود ہوں گی لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا تو وہ نہ صرف ہمارے شرمندگی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے والدین کے لیے بھی ہو گا جنہوں نے ہمیں اتنی محنت کے ساتھ اتنی بھاری فیسیں جمع کروا کر ہماری پڑھائی کو مکمل کیا۔

جب آئندہ مستقبل میں ہم سے ایسے سوال پوچھا جائے گا تو ہم اس کا جواب دینے کے لائق نہیں ہوں گے۔

اگر ہم ہم تاریخ کو پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تلوار سے زیادہ طاقت قلم میں ہے لیکن اگر ہمارے آج کے نوجوان میں علم کو حاصل ہی نہیں کیا تو ہم کیسے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

تاریخ اسلام میں علم کے حوالے سے اگر کسی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات کو مکمل ضابطہ حیات بنا کر بھیجا گیا ہے۔

ہماری اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو حضرت علی کرم اللہ کی ذات علم کے حوالے سے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے بے شک انہوں نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے علم سے اور تلوار سے شکست دی۔ جب مشرکین مختلف سوالات اسلام کو بنیاد بنا کر لے آتے تھے تب حضرت علی علیہ السلام ان کو اپنے علم سے حیران کردیتے تھے اور اسی علم کی بدولت بہت سے کافر مسلمان ہونے پر مجبور ہو گئے۔

زیادہ دور نہیں ہم صرف اپنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جنھیں شاعر مشرق کا خطاب دیا گیا ان کی زندگی کے پہلو کو دیکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف  علم ہی وہ واحد چیز ہے جنہوں نے اایک نئے ملک کا کام شرمندہ تعبیر کیا اگر یہ لوگ اپنے علم اور جدوجہد سے ہم لوگوں کو قائل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی اس آزاد ملک میں سانس نہیں لے پا رہے ہوتے۔

یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری تعلیمی معیار اور سوچ کو بدلنا ہوگا ہمیں صرف رٹا رٹایا اور یاد کرنے کی بجائے ان کی چیزوں کی گہرائی پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کو کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس سے ہماری ذات کو کیا کیا فرق پڑ سکتا ہے؟

جب تک ہم ان تمام سوالات کو اپنے دماغ میں نہیں لائیں گے ہماری پڑھائی بے مقصد ہو گی۔

تعلیمی نظام کیسا بھی ہو، بے شک ہم جا کر پڑھائی کریں یا پھر آن لائن تعلیم حاصل کریں جب تک ہم تعلیم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے ہم ترقی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

Leave a reply