تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

0
20

اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

@No1Hasham

Leave a reply