fbpx

تاریکی میں ڈوبا بگرام فضائی اڈہ تحریر: محمد اسعد لعل

افغانستان میں بیس برس سے امریکہ کی زیرصدارت افواج کی افغان طالبان سے جنگ جاری تھی ، حال ہی میں طالبان نے افغانستان کے بیشتر سرحدی اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں طالبان کا پلڑا بھاری ہے ۔طالبان نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیس برس بعد امریکی فوجی بجلی بند کر کے رات کی تاریکی میں بگرام فضائی اڈے کو چھوڑ گئے اور ایسا بگرام فضائی اڈے کے نئے افغان کمانڈر کو بتائے بغیر کیا گیا۔’ایک رات میں انھوں نے افعان فوج کے ساتھ20 سالوں کا اچھا تعلق ختم کر دیا اور جو افغان فوجی اس عمارت کے باہر کھڑے اس کی حفاظت کر رہے تھے انھیں بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا۔
امریکی افواج نے بگرام کے فوجی اڈے کو صبح تین بجے چھوڑا اور افغان فوج کو اس بارے میں کئی گھنٹوں بعد خبر ہوئی اور آخرکار صبح سات بجے تصدیق کر سکے کہ انھوں نے بگرام کو واقعی چھوڑ دیا ہے۔ اچانک ہونے والا اندھیرا مقامی لٹیروں کے لیے ایک اشارے کی مانند تھا۔ وہ اڈے کے شمال سے داخل ہوئے اور وہاں موجود رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے انھوں نے عمارتوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔افغان فوج کی جانب سے فضائی اڈے کا انتظام سنبھالنے سے قبل یہ اڈہ ڈاکؤوں کی چھوٹی سی فوج کے رحم و کرم پر تھا۔ جس کے بعد بالآخر انھیں یہاں سے بیدخل کیا گیا۔
امریکی افواج کی زیر استعمال چیزیں اب بگرام کےقریبی بازاروںمیں فروخت ہو رہی ہیں۔پیر کو امریکی فوجیوں کے اڈہ چھوڑنے کے تین روز بعد بھی افغان فوجی ان کی جانب سے چھوڑا گیا کچرا صاف کرتےرہے ہیں جس میں پانی کی بوتلیں، کینز اور انرجی ڈرنکس کی خالی بوتلیں شامل تھیں۔
بگرام امریکی فوج کا ہیڈکواٹر بھی مانا جاتا تھا جو کہ امریکہ کی طالبان کو شکست دینے کی جنگ اور 9/11 کے حملوں میں ملوث القاعدہ کے عہدیداروں کوپکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا اب مکمل طور پر سنسان اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کابل سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود یہ فضائی اڈہ دارالحکومت کی سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور یہ ملک کے شمالی علاقوں کے لیے بھی بہترین کور فراہم کرتا تھا جہاں طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائیاں کی گئی ہیں۔ یہ فوجی اڈہ ایک وسیع علاقے پر قائم ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں ایک چھوٹا سا شہر آباد تھا جو صرف امریکی اور نیٹو فورسز کے زیرِ انتظام تھا۔
اس کی وسعت دیکھنے کے قابل ہے اور یہاں موجود سڑکیں بیرکس سے ہوتی ہوئی عمارتوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں دو رن وے موجود ہیں اور طیاروں کے لیے پارکنگ کی 100 جگہیں بھی موجود ہیں۔ یہاں ایک مسافروں کے بیٹھنے کے لیے لاؤنج بھی موجود ہے، ایک 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال اور ہینگرز کے حجم کے ٹینٹ بھی موجود ہیں جن میں فرنیچر بھی پڑا ہوا۔امریکہ کی جانب سے چھوٹا اسلحہ بھی چھوڑا گیا ہے اور اس کے ساتھ گولیاں بھی موجود ہیں لیکن جانے والے فوجی بھاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس اسلحے کی ایمیونیشن کو امریکی فوجیوں کی جانب سے آگ لگا دی گئی تھی۔
اس فضائی اڈے میں پانچ ہزار قیدیوں کی ایک جیل بھی موجود ہے جس میں اکثر طالبان موجود ہیں۔امریکی فوجیوں کی جانب سے بغیر بتائے اڈہ چھوڑنے کے بعد افغان فوجیوں پر یہاں قید ہزاروں طالبان قیدیوں اور ممکنہ طور پر طالبان کی جانب سے ہونے والے حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہے۔ امریکہ افواج کے جانے کے بعد سکیورٹی میں آنے والا یہ خلا افغان فوجیوں کو پر کرنا ہے۔جبکہ میرا ماننا ہے کہ افغان فورسز اتنی ‘طاقتور’ نہیں ہیں جتنےامریکی ہیں،افعان افواج کا امیریکی افواج سے موازنہ کریں تو دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر طالبان اپنی کاروائیاں تیز کرتے ہیں تو افغان حکومت کا بھارت سے مدد طلب کر نے کا امکان ہے ۔
امریکی افواج کا آخری د ستہ جو کہ ابھی بھی افغانستان میں موجود ہے امکان ہے اسے بھی بہت جلد واپس بلوا لیا جائے گا۔نیٹو فورسز اور دوسرے ممالک کی افواج بھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں۔ اس سب کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مکمل طور پرناکام ہو چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی کا سہرا کس کے سر باندھتا ہے۔

twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal