fbpx

ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر ۔ناصر بٹ

@mnasirbuttt

دنیا میں ہر صدی میں ایک بڑی بیماری حملہ آور ہوتی ہی رہی، کبھی بلیک ڈیتھ، کبھی ہسپانوی زکام اور کبھی ایڈز، وبا کا آغاز ہوا تو کئی کئی سال لگ گئے اس کا علاج ڈھونڈنے میں، علاج ملا تو مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگ گیا یعنی ہر وبا ہزاروں نہی لاکھوں زندگیوں کو نگل چکی، اب موجودہ حالات کو دیکھ لیں تو ڈینگی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ذرا سی موسم نے کروٹ جو بدلی تو آگئی مچھروں کی فوج اور ہوگئی حملہ آور، پولیو جو بظاہر دنیا بھر کی طرح پاکستان اور افغانستان سے بھی کم تو ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے قطرے پلانے میں بھی جتن کرنا اپنے آپ میں ایک جنگ لڑنے جیسا ہی ہے، کورونا وائرس کی بات کریں تو پہلے ایک پھر دو پھر تین اور اب چار یعنی نام تو نہ بدلا لیکن لہروں کے نمبر بدلتے گئے اور ہر نئی ویو پہلی ویو سے زیادہ خطرناک ہی رہی، لیکن ابھی دنیا میں کاروباری، تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر اپنے معمول پر آئی نہیں تھیں کہ برطانیہ میں عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے نئے ویرئنٹ ’ڈیلٹا پلس’ کے کیسز میں پھیلاؤ رپورٹ ہونے لگا، خبر آئی اور حکام کو دوڑیں لگ گئیں، برطانوی وزارت صحت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ کی نئی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں وبا کے بڑھتے کیسز کی وجہ بن رہا ہے، اب معاملات کچھ یوں بن چکے کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا، جسے بی 1617.2 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ برس برطانیہ میں سامنے آئی تھی تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے 6 فیصد کیسز جینیاتی طور پر وائرس کی نئی قسم کے ہیں اے وائے.4.2، جسے کچھ افراد ’ڈیلٹا پلس ’ بھی کہہ رہے ہیں، ایسی میوٹیشنز پر مشتمل ہے جو وائرس کو زندہ رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اب یہ پتا لگانے کے لیے ٹیسٹس کیے جارہے ہیں کہ ڈیلٹا وائرس کی اس نئی قسم سے کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے یا موجودہ ویکسین سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے، اسے ابھی تک تشویش کا باعث بننے والی قسم یا زیر تفتیش ویرئنٹ نہیں سمجھا گیا لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے وائے.4.2 ہے کیا؟ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہزاروں مختلف اقسام یا ویرئنٹس موجود ہیں، وائرس ہر وقت بدلتے رہتے ہیں لہذا ان کی نئی اقسام سامنے آنا کوئی حیران کن بات نہیں لیکن ڈیلٹا کی اصل قسم کو مئی 2021 میں برطانیہ میں باعثِ تشویش قرار دیا گیا تھا جب یہ الفا ویرئنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی سب سے بڑی قسم بن گئی تھی لیکن جولائی 2021 میں ماہرین نے اے وائے.4.2 کی نشاندہی کی تھی، اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ڈیلٹا کی یہ قسم تب سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس میں کچھ نئی تبدیلیاں شامل ہیں جو اسپائک پروٹین کو متاثر کرتی ہیں جسے وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، ابھی تک اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ وائرس زیادہ متعدی ہے لیکن یہ ماہرین ابھی اس پر تحقیق کررہے ہیں
عالمی وبا کے آغاز سے کورونا وائرس کی دیگر اقسام میں وائے 145 ایچ اور اے 222وی میوٹیشنز پائی گئی ہیں ۔ سائنسدان مسلسل نئی جینیاتی تبدیلیوں کی جانچ کر رہے ہیں جن سے کورونا وائرس گزر رہا ہے کچھ اقسام پریشان کن ہیں لیکن بہت سی غیر اہم ہیں تاہم مشکل کام ان لوگوں کو ڈھونڈنا ، پتا لگانا اور ان کا انتظام کرنا ہے جو اہم ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ، ماہرین کو نہیں لگتا کہ اے وائے.4.2 کو پکڑا جاسکے گا لہذا ہوسکتا ہے کہ اسے واچ لسٹ سے نکال دیا جائے، یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانکوئس بلوکس نے کہا کہ ’یہ ممکنہ طور پر کچھ زیادہ متعدی قسم ہے انہوں نے کہا کہ ’الفا اور ڈیلٹا اقسام کے ساتھ جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو کہ 50 سے 60 فیصد زیادہ متعدی تھیں، فی الحال اس پر تحقیق جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ 10 فیصد زیادہ متعدی ہو پروفیسر فرانکوئس نے کہا کہ اچھا ہے کہ ہم آگاہ ہیں، یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے پاس مشکوک چیزوں کو دیکھنے کے لیےایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر میں کہوں گا انتظار کریں اور دیکھو ، گھبرائیں نہیں، یہ تھوڑا زیادہ متعدی ہوسکتا ہے لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا۔ اب اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہی اس شدید صورتحال کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوجائے جس کا بہترین حل یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوڑ لگائی جائے اس بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی، کوشش کی جائے کہ اپنے شہریوں کو پہلے سے ہی آگاہی دے دی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ حملے کی صورت میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جاسکے