fbpx

طیارہ حادثہ، 97 جاں بحق، لواحقین آج کراچی جائیں گے،وفاقی وزیر ہوا بازی کا دورہ کراچی متوقع، انجینئر کی تدفین

طیارہ حادثہ، 97 جاں بحق، لواحقین آج کراچی جائیں گے،وفاقی وزیر ہوا بازی کا دورہ کراچی متوقع، انجینئر کی تدفین

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور سے کراچی جانیوالی خصوصی پرواز پی کے 8303 منزل پر پہنچنے سے ایک منٹ قبل حادثے کا شکار ہو گئی،، پی آئی اے کا طیارہ ائیر بس اے 320 کراچی ائیر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔

طیارے میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے جاں بحق ہونے والے 97 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں، پی آئی اے کے طیارے ائیر بس اے 320 نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ائیر پورٹ سے اڑان بھری، اس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے، 2 بج کر 37 منٹ پر کراچی ائیر پورٹ کے رن وے سے متصل آبادی ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور وہاں آگ لگ گئی۔

طیارہ گرنے سے کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا جبکہ کچھ لوگ ملبے تلے بھی دب گئے۔ تباہ شدہ تیارے کے بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسِس ریکارڈر مل گیا ہے۔ حادثے کے فوری بعد پاک فوج ، رینجرز اہلکار، ریسکیو حکام اور مقامی لوگ امدادی کارروائیوں کیلئے پہنچے، جائے حادثے کے اطراف کے علاقے سیل کر دئیے۔

اطلاعات کے مطابق بدقسمت پرواز لینڈنگ سے چند منٹ قبل تک بالکل درست تھی لینڈنگ کے وقت طیارے کے کیپٹن نے کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے۔ جس پر طیارے کو ایک چکر لگانے کا کہا گیا تاکہ اس دوران لینڈنگ گیئر کا مسئلہ حل کیا جاسکے۔ تاہم طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے باعث طیارے میں آگ لگ گئی بدقسمت طیارے کے ساتھ ساتھ مکانات اور گاڑیوں میں بھی آگ لگ گئی۔

حادثے کا شکار پرواز عید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی۔ سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارے کا 2 بج کر 37 منٹ پر ائیر کنٹرول ریڈار سے رابطہ منقطع ہوا اور بعد ازاں کپتان سجاد گل نے ائیر کنٹرول ٹاور کو طیارے کے لینڈنگ گیئر میں خرابی سے آگاہ کیا۔ طیارے میں کل 91 مسافر سوار تھے، مسافروں میں 51 مرد، 31 خواتین اور 9 بچے شامل تھے۔

محکمہ صحت سندھ نے بتایا 48 لاشیں جناح ہسپتال اور 32 لاشیں سول ہسپتال لائی گئی ہیں۔ جناح ہسپتال میں لائی گئی لاشوں میں سے 12 افراد کی شناخت ہوگئی جن میں محمد طاہر ولد مبین، فریحہ رسول دختر غلام رسول، فریال بیگم زوجہ اسعد اللہ، سیدہ صائمہ عمران زوجہ سید عمران حسن، کیپٹن فلائٹ سجاد، فرحان ولد عبدالکبیر، دلشاد احمد ولد مبین، سید محمد احمد ولد سید جمال احمد، ندا دختر عرفان اللہ ، عمار راشد ولد راشد محمود، شہناز پروین زوجہ امان اللہ اور شعیب رضا ولد شریف رضا شامل ہیں۔

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے جائے حادثہ کا فضائی دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کی فضائی نگرانی کی۔ طیارہ حادثہ کے بعد جائے وقوع کے اطراف کے علاقے کو مکمل سیل کر دیا گیا، اس دوران وہاں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں جانا چاہ رہے تھے جنہیں روک دیا گیا جبکہ میڈیا کے نمائندوں کو بھی ایک مخصوص مقام سے آگے نہیں جانے دیا گیا، اس دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور وہاں موجود خواتین اور بچوں نے زارو قطار رونا شروع کر دیا۔

طیارے کو اڑانے والے دو پائلٹ اور عملے کے نام سامنے آگئے، بد قسمت طیارے کو کیپٹن سجاد گل اور فرسٹ آفیسر عثمان اعظم اڑا رہے تھے۔ عملے کے ارکان میں فرید احمد چودھری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، مدیحہ ارم، آمنہ عرفان اور اسما شہزادی شامل تھے۔

حادثے کا شکار طیارے کے پائلٹ اور معاون پائلٹ کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہروں بہاولپور اور اوچ شریف سے تھا۔ پائلٹ سجاد گل بہاولپور کا رہائشی تھا جبکہ معان پائلٹ ملک عرفان رفیق گھلو کا تعلق اوچ شریف کے علاقے موضع اسماعیل سے تھا، معاون پائلٹ عرفان گھلو 2007 میں پی آئی اے میں بطور پائلٹ بھرتی ہوا، دونوں پائلٹ پی آئی اے میں نوکری حاصل کرنے کے بعد کراچی شفٹ ہوگئے تھے۔ عرفان رفیق گھلو شہید کے حادثہ کی اطلاع ملتے ہی والدہ پر غشی کے دورے، قریبی رشتہ دار اور اہل علاقہ سوگوار ہوگئے۔ تباہ ہونے والے بد قسمت طیارے میں سینئر صحافی انصار نقوی، پنجاب حکومت کے افسر خالد شیر دل اور معروف ماڈل زارا عابد بھی سوار تھیں۔

پی آئی اے نے ایمرجنسی رسپانس آپریشن شروع کر دیا۔ کراچی ائیرپورٹ پر طیارے میں سوار مسافروں کے اہلخانہ کو داخلے کی اجازت دے دی گئی جبکہ پی آئی اے کے ایمرجنسی رسپانس ڈیسک کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے تفصیلات لینے کا عمل جاری ہے۔ طیارے کی تباہی کے بعد علامہ اقبال ائیر پورٹ لاہور پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے علاوہ کراچی جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ طیارے میں سوار مسافروں کے عزیز و اقارب پی آئی اے دفاتر میں رابطے کر کے اپنے پیاروں کے حوالے سے معلومات حاصل کرتے رہے۔

پی آئی اے کے جاں بحق عملے کے اہلخانہ آج کراچی پہنچیں گے،عملے کے 4ارکان کےاہلخانہ نے کراچی جانے کےلیے بکنگ کروائی ہے،پی آئی اے عملے کے اہلخانہ کے 9 افراد کراچی جائیں گے،عام مسافروں کے کسی اہلخانہ نے کراچی جانے کےلیے رابطہ نہیں کیا،عملے کے لواحقین کو لے کر پرواز 8305 ایک بجے لاہور سے کراچی روانہ ہوگی،پرواز میں دیگر 48 مسافروں نے بھی کراچی جانے کےلیے بکنگ کروائی ،لاہور ائیر پورٹ پر رہنمائی کاوَنٹر قائم ،ا سٹیشن اور بکنگ مینجر معاملات دیکھ رہے ہیں،

طیارہ حادثے میں شہید فرحان قادر کلوڑ کی نماز جنازہ اداکردی گئی،فرحان قادر کلوڑ گھوٹکی کے علاقے عادلپور قبرستان میں سپردخاک کر دیئے گئے،انجنیئر فرحان قادر پی آئی اے طیارہ میں لاہور سے کراچی آرہاتھا

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان آج کراچی کا دورہ کریں گے،وفاقی وزیر برائے ہوا بازی طیارہ حادثے کی جگہ کابھی دورہ کریں گے،وفاقی وزیرغلام سرور زخمیوں کی عیادت کے لیے بھی اسپتال جائیں گے