fbpx

تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

پہلی ٹوٹی

یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

دوسری ٹونٹی

اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

تیسری ٹونٹی

یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

جنتی ٹونٹی

جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔