fbpx

افغان طالبان افغانستان کے آخری محاذ پر بھی فتح حاصل کرنے میں کامیاب

کابل: افغان طالبان افغانستان کے آخری محاذ پر بھی فتح حاصل کرنے میں کامیاب۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے پنجشیر میں بھی فتح حاصل کر لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس حوالے سے افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ پنجشیر میں جنگ رک گئی ہے۔ جنگ لڑنے والے مزاحمتی اتحاد نے طالبان کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کے بعد ہی جنگ رکی۔

دوسری طرف یہ خبریں بھی سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہیں کہ پنجشیر میں افغان طالبان کیخلاف جنگ لڑنے والے احمد مسعود اور امر اللہ صالح فرار ہو گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان نے پنجشیر پر بھرپور قوت سے حملہ کیا تھا۔

ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ وادی پنجشیر میں وہ کیوں آگے بڑھنے پرمجبورہوئےکیونکہ یہ معاملہ اب افغانستان کی داخلی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم ہو گیا ہے، پنجشیر کی صورتحال کی وجہ سے افغانستان کے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق مزاحمتی فورسز کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم اسی دوران ان کی جانب سے حملہ کر دیا گیا۔

افغان طالبان ذرائع کے مطابق اسی لیے اب مسلح مزاحمت کو کچلنا ناگزیر ہو گیا، مذاکرات میں ناکامی کے بعد آپریشن کا آغاز کیا، ہمارے جنگجو پنجشیر کے کئی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب پنجشیر کے مزاحمتی اتحاد کے سربراہ احمد مسعود نے کہا کہ مذاکرات کے حق میں ہیں تاہم طالبان کیساتھ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو اپنی زمین، عوام، اقدار کے دفاع کیلئے مزاحمت پر مجبور ہونگے۔

امریکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں پنجشیر کے مزاحمتی اتحاد کے سربراہ احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کو تمام نسلی گروہوں پر مشتمل جامع حکومت کی صورت میں ہی تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے طالبان تبدیل نہیں ہوئے ہیں