لندن : کورونا وائرس کی شدت اور موجودگی 2021ء تک رہنے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا ہے۔،اطلاعات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی شدت کم سے کم 2021 ء کے موسم بہار تک برقرار رہے گی اور وبا اپنے عروج پر ہوگی،
برطانوی ماہر طب کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اقدام خطرے سے خالی نہیں ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی سے لوگوں کو یہ تاثر ملے گا کہ وہ معمول کی زندگی میں واپس آ سکتے ہیں تو وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر دوبارہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے اموات کی شرح خوفناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس سے طویل مدتی اثرات کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے 10 کروڑ سے زائد بچے خط غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں، جنوبی ایشیا میں بھارت، پاکستان، افغانستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی ماہرین صحت نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کا ابھی تک کوئی باقاعدہ علاج موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ویکسین تیار ہوسکی ہے تاہم ماسک پہننے سے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔







