fbpx

عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی کا سربراہ تبدیل

اسلام آباد: پنجاب حکومت نے عمران خان پر فائرنگ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم میں تبدیلی کردی، آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ایک روز قبل وزیر آباد حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی جس میں محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ سی پی او لاہور طارق رستم چوہان کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا تھا جبکہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی اور آئی جی انویسٹی گیشن برانچ پنجاب احسان اللہ چوہان، ضلعی پولیس آفیسر وہاڑی محمد ظفر بزدار اور ایس پی سی ٹی ڈی نصیب اللہ خان کو بطور ارکان شامل کیا تھا۔

آج پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی کا سربراہ آر پی او ڈی جی خان خرم علی کو مقرر کردیا ہے جب کہ کل بنائے گئے سربراہ طارق رستم چوہان کو بطور ممبر شامل کردیا ہے جب کہ بقیہ ارکان برقرار ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی یہ جے آئی ٹی سانحہ وزیرآباد سے متعلق مکمل تفتیش کرے گی اور اپنی رپورٹ صوبائی وزیر داخلہ کو پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل صوبائی وزیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی فرانزک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمران خان پر حملے میں دو لوگ ملوث تھے جبکہ کنٹرینرز سے دو قسم کی گولیاں برآمد ہوئیں ہیں۔

سمجھ نہیں آتا مریم اور شہباز شریف کو ڈیلی میل پر اتنا غصہ کیوں ؟ ایسا کس نے کہہ دیا

ڈیلی میل کی خبر، پوچھنا تھا مقدمہ کیلئے شہباز شریف نے لیگل ٹیم پیدل روانہ کی، شہباز گل

شہباز شریف کو برطانوی صحافی نے ایک بار پھر کھری کھری سنا دیں

شہباز شریف نے ڈیلی میل پر مقدمہ کی بجائے آئیں، بائیں، شائیں کا خط لکھ دیا، ڈاکٹر شہباز گل