fbpx

ہانگ کانگ کےانتخابی نظام میں چین کی طرف سے تبدیلیوں پرامریکہ اوربرطانیہ مشتعل ہوگئے

لندن : ہانگ کانگ کےانتخابی نظام میں چین کی طرف سے تبدیلیوں پرامریکہ اوربرطانیہ مشتعل ہوگئے،اطلاعات کے مطابق امریکہ اور برطانیہ نے چین کے اُس نئے اقدام پر نکتہ چینی کی ہے جس کے مطابق ہانگ کانگ میں انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی حکام چھان بین کریں گے تاکہ انکی چین کے ساتھ وفاداری کی تصدیق کی جا سکے۔

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس اسٹینڈنگ کمیٹی نے ہانگ کانگ کے بنیادی قانون میں ترمیمات کی منگل کے روز منظوری دی۔

تبدیلیوں میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ کے منتظم اعلیٰ اور قانون ساز کونسل کے امیدواروں کی پولیس سیکورٹی شعبے کی جانب سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پولیس اپنے نتائج ایک نگران کمیٹی کو پیش کرے گی جو فیصلہ کرے گی کہ آیا امیدوار انتخابات میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔

ہانگ کانگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قانون ساز کونسل کے انتخابات مؤخر کرے گی جنکے انعقاد کی ابتدائی تاریخ ستمبر سے دسمبر کے دوران تھی۔

اسکا مزید کہنا ہے کہ اگلے منتظم اعلیٰ کے لیے انتخاب آئندہ سال مارچ میں منعقد کیا جائے گا۔ اسکا یہ مطلب ہے کہ دونوں انتخابات نئے نظام کے تحت منعقد ہونگے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس اقدام کو ہانگ کانگ میں سیاسی شرکت اور نمائندگی کو مزید مختصر کرنے والا فعل قرار دیا ہے۔

ترجمان نے چینی حکومت اور ہانگ کانگ کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ہانگ کانگ کے عوام کی آواز سنیں اور انکے سیاسی نظریات سے قطع نظر انہیں انتخابات میں کھڑا ہونے دیں۔ ترجمان نے حکام پر یہ زور بھی دیا کہ انتخابات کی شفافیت یقینی بنائیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ ہانگ کانگ کے انتخابی نظام میں چین کی تبدیلیاں، برطانیہ اور چین کے مشترکہ اعلامیے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ، ہانگ کانگ کے لوگوں کی آزادیوں پر ضرب لگاتا ہے اور چین کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی نفی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.