پشاور: ہدیہ الہادی پاکستان کے رہبر پیر سید ہارون گیلانی نے کہا ہے کہملک میں حقیقی جمہوریت اور مغربی جمہوریت کو لیکر بحث جاری ہے، جمہوریت جہاں کی بھی ہو،اس میں افراد کی تعداد کو گنتے ہیں،نہ کہ افراد کو تولتے ہیں، ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کرنے والے یہ بات مد نظر رکھیں کہ ڈکٹیٹر کس کی نمائندگی کرتا ہے۔پشاور پریس کلب میں منعقدہ فکری نشست بعنوان کیا مسائل کاحل نظام کی تبدیلی میں ہے سے بحیثیت صدر محفل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالہ کا فرمان ہے کہ جو رسول دے اسے لے لو اور جس کام سے منع کرے اسے رک جاو۔۔انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل کا تعلق یونین کونسل اور ضلعے کے سطح تک ہوتے ہیں۔ملک کے پالیسی فیصلوں سے متعلق رایے دہی کا حق ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کو اس چیز کا ادراک ہے۔کرکٹ ٹیم کی سلیکشن عوام سے نہیں کروانے والے وزیراعظم کا چناؤ عوام کے زریعے کرنا چاہتے ہیں۔پیر سید ہارون گیلانی نے کہا کہ ملک میں چند سو گندے انڈے ہیں،جو کبھی ایک ٹوکرے میں نظرے آتے ہی تو کبھی دوسرے میں۔انہوں نے کہا کہ ایک مذ ہبی جماعت اپنے امیر کے انتخاب کے لیے عام کارکن کوووٹ کا حق نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق اہل شعور کا حاصل ہونا چاہئے۔ملک میں حق رائے دہی کے ضمن میں ہمیں اصلاحات کی طرف جانا ہوگا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تھینکرز فورم کے صدر پاکستان تھنکرز فورم کے صدر ملک لیاقت علی تبسم نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ جب تک ملک میں خلافت راشدہ کے اصولوں پر مبنی نظام کا نفاذ نہیں کرتے،مسایل حل نہین ہونگے۔انہون نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے پورا زور لگایا لیکن مملکت خداداد جو کہ دین کلمہ طیبہ کے نام پر قایم ہوا ہے کے وجود کو مٹانے میں ناکام رہے ہیں۔انہون نے زور دیا کہ مسلمان قرآن کو سینے سے لگائیں۔علامہ شبیر احمد عثمانی کے نواسے احمد عثمانی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو اگر تبدیلی کے لیے تیار کرسکتا ہے تو وہ سچائی پر مبنی نیت سے ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم۔نے نوجوانو کو بہت کچھ دیا لیکن نہیں دیا تو قلم اور شعور نہی۔ دیا۔نوجوان آپنے ایمان کو ہمیشہ تازہ رکھیں۔سینئر صحافی شریف شکیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال کا شعر ہے کہ وہی جہان ہے تیرا جو تو کرے پیدا،،،یہ سنگ وخشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہے۔۔۔انہون نے کہا کہ موجودطبقاتی نظام نے ملک کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب سے درآمد شدہ نظام ہمارے مسائل حل کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔مغربی جمہوریت حقیقی جمہوریت کا نعم البدل نہیں ملک میں پروٹوکول کلچر فروغ پارہا ہے۔کرپشن کی وبا ہمارے اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جب بھی نظام بدلنے کی بات ہوتی ہے نظام کے سرخیل اسے بچانے کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔اس موقع پر جامعات کے طلبا و طالبات نے فکری نشست سے اپنے خطاب میں نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تبدیلی کی ضر ورت پر زور دیا۔اس سے پہلے ہدیہ الہادی پاکستان کے مرکزی نائب صدر رضیت باللہ نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں فکری نشست کے مقاصدپر روشنی ڈالی۔اس موقع پر پشاور پریس کلب کے نائب صدر نادر خواجہ سمیت صحافیوں،مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبا وطالبات اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھے۔

Shares: