fbpx

مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

واشنگٹن: ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے جنگوں کے روایتی طریقہ کار کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین جنگوں میں دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرنے کے تصور پر کام کر رہی ہے۔

امریکی ذرایع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ چین کے ایک تحقیقی مرکز میں ایسے ہتھیار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے جن کی مدد سے وہ دشمن ملک کے فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرسکیں گے۔

امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے چین کے سرکاری فوجی اخبار پی ایل اے( پیپلز لبریشن آرمی ) ڈیلی میں 2019 میں ’ فوجی برتری کے بارے میں مستقبل کے تصورات‘ کے عنوان سے شایع ہونے والی رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا ہے جس میں چین کی ’ برین وار فیئر‘ تحقیق کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر کئی سالوں سے کام ہورہا ہے۔

ایسی ہی ایک اور رپورٹ کہا گیا ہے کہ’ جنگ دشمنوں کی لاشوں کے حصول سے نکل کر انہیں مفلوج کرنے اور ان پر کنٹرول کرنے کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔‘

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق چینی ریسرچرز ’ انسانوں کی سائیکولوجیکل اور ادارکی صلاحیتوں میں اضافے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے انسانوں اور مشینوں کو مربوط کرنے پر‘ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔‘ جس کی مدد سے وہ دماغ کے دفاع کرنے کی صلاحیت کو دماغ پر کنٹرول اور حملے کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

رواں ماہ کی 16 تاریخ کو ہی امریکہ محکمئہ خزانہ نے چین کی اکیڈمی برائے ملٹری سائنسز( اے ایم ایم ایس) اور اس سے محلقہ 11 ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی برآمدات کو امریکا کی قومی سلامتی اور فارن پالیسی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

محکمئہ خزانہ کی سربراہ جینا ریمنڈو کا دعوی ہے کہ چین بایو ٹیکنالوجی اور طبی جدت کو اپنے لوگوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں ایک سینئرامریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ چین انسانی کارکردگی میں اضافے اور دماغ کو مشین کے ساتھ جوڑنے کے لیے جینز میں ترمیم کررہا ہے۔تاہم چینی حکام نے امریکی اخبار کی رپورٹ اور حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ْ