ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی

کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے. یہ صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو سفارتی اور سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اتنی بات آج تک کسی امریکی صدر نے نہیں کی. اس بات سے مجھے امریکی انتخابات میں میرا اپنا موقف یاد آتا ہے جو میں نے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بار بار دہرایا تھا کہ أوباما پاکستان کیلیے بد ترین امریکی صدر ثابت ہوا ہے، لیکن ایک سیدھی بات کرنے والا ٹرمپ جیسا بزنس مین پاکستان کیلیے بہتر ہو سکتا ہے اور ہمیں ان سے روابط بنانے چاہیں.

کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئے کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور علانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں دھماکے ہو رہے ہیں. بڑی پسپائی ہے کشمیر پر بھارتی موقف کی.

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو علانیہ یہ بات نہیں بتانی چاہیے تھی کہ مودی کشمیر پر انکی مدد مانگ رہا ہے کیونکہ اب بھارت میں پریشر پیدا ہوگیا ہے جو ممکنہ ثالثی کو مشکل بنا دے گا.

لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے. بھارت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا ہی کرنے جا رہا تھا. لیکن صدر ٹرمپ نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت روایتی سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کیلیے تیار ہوسکتا ہے، اور یہ بات پاکستان اور کشمیریوں کے ہاتھوں ایک نیا سفارتی ہتھیار بن گئی ہے.

احمد قریشی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.