fbpx

ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

ای ڈی یو مالیکیول دماغ میں موجود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے

انعام یافتہ ترک کیمیا دان کے مطابق، حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک منفرد مالیکیول استعمال کیا جا سکتا ہے۔

باغی ٹی وی : عزیز سنجار کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے کینسر کے علاج کے لیے ایک منفرد ای ڈی یو (EdU) نامی مالیکیول کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے میں انہوں نے بتایا ہے کہ 2008ء سے مالیکیولر حیاتیات میں استعمال ہونے والے ای ڈی یو (EdU) مالیکیول کا شمار مقبول ترین مالیکیولز میں کیا جاتا ہے۔

نوبل انعام یافتہ سائنسدان سنجار نے کہا کہ میں نے 10 سال تک ڈی این اے میکانزم پر کام کیا، جس کی وجہ سے مجھے یہ انعام ملا۔

انہوں نے تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری میں اس تحقیق پر کام شروع کیا، صرف 1 ماہ کے بعد فروری میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ای ڈی یو مالیکیول دماغ میں موجود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔

ترک سائنسداں عزیز سنجار نے تمام ضروری معائنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے دماغ کے کینسر کے خلاف پیش قدمی کر لی ہے تحقیق سے یہ دریافت ہوا ہے کہ ای ڈی یو دماغ کی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک مؤثر انتخاب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ای ڈی یو کینسر کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باوجود خون کو دماغ تک رسائی دے سکتا ہے جو کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی موجودہ بیشتر ادویات سے بھی ممکن نہیں۔

تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

تحقیق نے دریافت کیا کہ خون دماغی رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ای ڈی یو "دماغ کے رسولیوں کے علاج کے لیے ایک امید افزا آپشن” ہے۔

زیادہ تر ادویات خون سے دماغ تک نہیں جا سکتیں۔ مثال کے طور پر، کیمیکل سسپلٹین، جو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دماغ کی خرابیوں کے علاج کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ یہ ای ڈی یو بغیر کسی مشکل کے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔

دریافتوں کو انسانوں پر آزمانے سے پہلے چوہوں کو استعمال کیا جائے گا۔

سنجار کے مطابق، چوہوں پر تحقیق میں دو سال لگیں گے۔ سنجار نے کینسر کے مریضوں کو بتایا کہ وہ فی الحال یقین رکھتے ہیں کہ انسانی ادویات میں صرف 3 فیصد دریافتیں ہی کارگر ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ امید رکھیں اور اس وقت دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں،” میرا پیغام ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ سے تعلق رکھنے والے کیمیائی سائنسداں عزیز سنجار ترکیہ ہی میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا ہے انہوں نے ڈی این اے میکانزم پر 10 سال تک کام کیا ہے، ڈی این اے میکانزم کے شعبے میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2015ء میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق