ایک نہیں وہان میں دو لیبارٹریوں میں کرونا وائرس پرتجربات جاری تھے، فنڈنگ امریکی حکومت کررہی تھی ،امریکی سینیٹرٹڈکروز

واشنگٹن:ایک نہیں وہان میں دو لیبارٹریوں میں کرونا وائرس پرتجربات جاری تھے، فنڈنگ امریکی حکومت کررہی تھی ،چین سزابھگتنے کے لیے تیاررہے ،امریکی سینیٹرٹڈکروزنے ایک ٹی وی چینل کوانٹریو کے دروان چین کے حوالے سے امریکی ممکنہ ردعمل سے آگاہ کردیا ، امریکہ چین کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ،ٹڈکروز نے سب کچھ بتادیا

ذرائع کےمطابق امریکی سینیٹرٹڈکروز نے ایک ٹی وی چینل پرگفتگوکرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک نہیں بلکہ چین کے صوبےوہان میں دولیبارٹریوں‌میں کرونا وائرس سے متعلق چینی سائنسدان کافی عرصے سے تحقیقات کررہے تھے

سینیٹرٹڈکروز نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس بات سے تو انکارنہیں کیا جاسکتا کہ کرونا وائرس نے ساری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لیکن یہ بات بھی یاد رکھیں کہ وہان میں کرونا وائرس پرتحقیقات میں امریکی حکومت مالی معاونت کررہی تھی

امریکی رکن کانگریس نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے اس مالی سال وہان لیبز کو 76 ہزارڈالرز سے زائد مالی مدد کی جو کہ امریکی قوم کے ٹیکس کے پیسے سے ادا کئے گئے ، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اس خطے کے ممالک کے تحقیقی رقم 3.7 ملین ڈالرز رکھی تھی

ان کا کہنا تھا اس لیباٹری میں جانوروں پرتحقیقات جاری تھیں کہ کون سا وائرس انسانوں کے لیے خطرناک ہے، اس دوران وہان لیب میں اس دوران کرونا وائرس کی شکل سامنے آئی اور پتہ چلا کہ یہ وائرس انسانی جسم کےخلیات کو بری طرح متاثرکرتا ہے

سینیٹرٹڈ کروز کہتے ہیں کہ یہ پیسہ امریکی عوام کے ٹیکس کا تھا جس استعمال چین نے ایسے تجربات میں کیا جوانسانیت دشمن ثابت ہوئے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اورچین میں معاملات مزید خراب ہوسکتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.