امت مسلمہ کے لیے بڑی خوشخبری، عمران خان کی محمد بن سلمان سے ملاقات، ایران اور سعودی عرب میں کچھ بڑا ہونے والا ہے .

0
33

امت مسلمہ کے لیے بڑی خوشخبری، عمران خان کی محمد بن سلمان سے ملاقات، ایران اور سعودی عرب میں کچھ بڑا ہونے والا ہے .

باغی ٹی وی :سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کرونا دنیا پر ایسا چھایا ہوا ہے کہ بہت سے ایسی اہم چیزیں ہیں جن سے آپ کو آگاہ کرنا اور بتانا بہت ضروری ہے اکثر رہ جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک خبر ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ معاملات کو حل کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ یہ بہت ہی اہم پیش رفت ہے ۔ مسلم دنیا اور اس خطے کے لیے اہم تو ہے ہی لیکن اس کے پاکستان پر بہت ہی خوشگوار اثرات ہوسکتے ہیں ۔ آپ دیکھیں ایک جانب امریکہ اس خطے یعنی افغانستان سے نکل رہا ہے ۔

۔ دوسری طرف پاک بھارت بیک چینل روابط کے نتیجے میں ملک کی مشرقی سرحدوں پر کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں تو تیسری طرف ایران اور سعودی عرب کے مابین خوشگوار بیانات کے تبادلوں سے پاکستان کے مغربی جانب امن اور استحکام کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ جلد عمران خان بھی محمد بن سلمان سے ملنے والے ہیں ۔

۔ اگر آپ تاریخ کے ارواق کو پلٹیں تو فروری
1979
کے اسلامی انقلاب سے قبل دونوں مسلم ممالک کے تعلقات دوستی اور قریبی تعاون پر مبنی تھے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف خلیج فارس ایک مستحکم خطہ تھا ۔ بلکہ دونوں ملکوں کے مابین تعاون کی وجہ سے تیل کی برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم
OPEC
بھی مغربی ممالک کو اپنی شرائط پر تیل خریدنے پر مجبور کر سکتی تھی۔ مگر گزشتہ چار دہائیوں میں امریکی نے ان دونوں ملکوں کے مابین غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کر کے خطے میں کشیدگی کی فضا پیدا کی۔ پر اب پھر لگتا ہے کہ حالات بدل رہے ہیں اور پلٹا کھانے لگے ہیں ۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ ایران نے محمد بن سلمان کے بیان پر اپنا ردِ عمل جاری کرنے میں دیر نہیں کی ہے اور انٹرویو نشر ہونے کے دو دن بعد ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کر دیا تھا جس میں حکومت ایران نے سعودی ولی عہد کے بیان کا خیر مقدم کیا اور ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایک دوسرے کے بارے میں تعمیری رویہ اختیار کرکے اور باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی راہ اپنا کردونوں ملکوں کے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا۔ محمد بن سلمان کے بیان کا فوری خیر مقدم کرکے ایران نے ثابت کیا ہے کہ تہران
ریاض کے ساتھ مصالحت اور تعاون کی برابر خواہش رکھتا ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ گزشتہ چند برسوں میں ایران اپنی اس خواہش کا متعدد بار اظہار کر چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے مثبت ردِ عمل کے نہ آنے کی وجہ سے اس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ لیکن دنیا کے دیگر خطوں کی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بھی حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔

۔ اگر آپ غور کریں تو مشرق وسطی کے حالات بھی کافی تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ سعودی عرب عراق ، شام ، لبنان اور خلیج فارس کے دیگر علاقوں پر ایران کے توسیعی عزائم کا الزام عائد کرتا رہا ہے ۔

2015ء میں یمن میں فوجی مداخلت اس پالیسی کا حصہ تھی لیکن یہ پالیسی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب یمن کی جنگ سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے۔

۔ اس نے حوثیوں کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی۔ جو مسترد کر دی گئی۔ اب سعودی عرب یمن میں جنگ بندی کیلئے ایران کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ گزشتہ ماہ عراق میں ایرانی اور سعودی اہلکاروں کے درمیان ہونے والے خفیہ مذاکرات کا مقصد بھی یہی تھا۔ محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جن مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ان میں شام ، لبنان اور عراق پر دونوں ملکوں کے مابین اختلافات کے علاوہ یمن میں باغی حوثی قبائل کو جنگ بندی پر مائل کرنا بھی شامل ہے۔

۔ گزشتہ ماہ فنانشل ٹائمز نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ نو اپریل کو بغداد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں سے متعلق بات چیت ہوئی جو
’مثبت‘
رہی۔ اس عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ سعودی وفد کی سربراہی خالد بن علی الحمیدان کر رہے ہیں جو ملک کی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے ان مذاکرات کا دوسرا دور طے ہونا ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ اخبار کے مطابق یہ بات چیت کروانے میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی نے
’سہولت کار کا کردار‘
ادا کیا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے گذشتہ ماہ ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔

عہدیدار نے بتایا کہ
’یہ بات چیت اس لیے تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے کیونکہ ایک طرف امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت تیزی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے بھی جاری ہیں۔

۔ برطانوی اخبار کے مطابق ایک اور عہدیدار نے سعودی عرب اور ایران کے مابین ہونے والی بات چیت کے بارے میں کہا: دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش میں عراقی وزیرِ اعظم کے ایرانی نظام کے اندر اچھے تعلقات کا بھی کردار ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ ایرانی صدر حسن روحانی جن کی صدارت اگست میں ختم ہو رہی ہے اور وہ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ عرب حریفوں کے ساتھ دشمنی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

۔ اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے حوثی باغیوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں یمن میں امن کے قیام کیلئے جنگ بندی پر جس طرح زور دیا اور سعودی ولی عہد کے انٹرویو کا جس طرح خیر مقدم کیا اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ ان ملکوں میں محاذ آرائی سے پاک تعلقات کا آغاز ہو جائے گا ۔

۔ اہل نظر کی نظر میں خلیج فارس اور اس کے آس پاس کے پانیوں مثلاً خلیج اومان اور بحرِ احمر میں میری ٹائم سکیورٹی ایک نہایت سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جسے حل کرنے کیلئے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ بین الاقوامی برادری بھی فوری اور مؤثر اقدام کی خواہش مند ہے۔

مبشر لقمان کا کہناتا کہ
سعودی عرب کی طرف سے ایران کے ساتھ تعلقات اور باہمی اختلافات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کے پیچھے جو متعدد وجوہات ہیں ان میں میری ٹائم سکیورٹی سب سے اہم ہے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں تمام علاقائی ممالک کے مفادات خطرے میں ہیں۔

۔ گزشتہ چھ سات برس کے تجربے کی بنا پر سعودی عرب غالباً اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران کے تعاون کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ۔

۔ اس وقت مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں ایسی سیاسی طاقتیں مستحکم ہو چکی ہیں۔ جو نہ صرف اپنے مفادات کو پہچانتی ہیں بلکہ ان کے تحفظ کیلئے امن اور باہمی تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ اس لیے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کیلئے موجودہ کوشش خطے میں امن اور سلامتی کے لیے ایک نیک شگون ہے۔

۔ تمام صورتحال کا اندازہ آپ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی اس ٹویٹ سے لگا لیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ
افق پر مثبت علامات کے اشارے ہیں۔

۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین مصالحت سے جن ملکوں کو خصوصی طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ان میں پاکستان اور چین بھی شامل ہیں۔

۔ خاص طور پر پاکستان میں اس کا خصوصی خیرمقدم کیا جائے گا ۔ بلکہ کیا بھی جا رہا ہے محمد بن سلمان کے انٹرویو کے فورا بعد عمران خان نے ان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا تھا ۔ کیونکہ ایران اور سعودی عرب دونوں پاکستان کے دوست ممالک ہیں اور ان کے مابین کشیدگی سے پاکستان کی خلیج فارس میں ڈپلومیسی کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری سے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر امن اور استحکام کی فضا پیدا ہو گی جو اس پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔

۔ چین کا کمال یہ ہے کہ اس نے دو مخالف ملکوں سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ چین نے سعودی عرب کو ایٹمی پروگرام بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔ جب سے ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا ہے سعودیہ کو اپنی سلامتی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ اسکے جواب میں اس نے بھی ایٹمی پروگرام پر کام شروع کردیا۔ گو امریکہ اور سعودی عرب بہت قریبی اتحادی ہیں لیکن ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب کو چین سے ہی تعاون حاصل ہوا۔ چین نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ڈرون طیارے بھی فروخت کیے ہیں۔ چین کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہوآوے اپنے فائیو جی نیٹ ورک کا سب سے زیادہ کاروبارعرب ملکوں میں کررہی ہے۔امریکہ نے عرب ملکوں پر دباؤ بھی ڈالا کہ چین سے قربت نہ بڑھائیں لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔

۔ دوسری جانب اگر چین کی بات کی جائے تو کورونا وبا کے بعد چین مشرق ِوسطی میں داخل ہوچکا ہے۔ فوجیں لیکر نہیں بلکہ اپنی معاشی طاقت کے بل پر۔
چین نے خلیجی ممالک مصر ، ایران اور عراق کو بڑے پیمانے پر دوائیں طبی سامان اور اپنے ماہرین بھیجے۔ اسکے برعکس امریکہ نے یہ کام نہیں کیا حالانکہ وہ بیشتر عرب ملکوں کا پرانا اتحادی ہے اور ان ملکوں میں اسکے فوجی اڈے قائم ہیں۔ چین نے امریکی فوجی طاقت کے مقابل آنے کی بجائے معاشی میدان میں عرب خلیجی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ اسوقت چین اور عراق کے درمیان تجارت عروج پر ہے۔ چین اس عرب ملک کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ چین کا مفاد یہ ہے کہ عرب ممالک اسکو پیٹرولیم مہیا کرسکتے ہیں۔

۔ تیل کے بدلہ میں چین عرب ملکوں میں صنعتی کارخانے لگا رہا ہے۔ بندرگاہیں تعمیر کررہا ہے۔ ریلوے کا نظام بنا رہا ہے۔

۔ عرب ممالک کے چین سے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں پیٹرولیم کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔

۔ چین کے مشرق وسطیٰ میں داخل ہونے کے بعد اس خطہ کی علاقائی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔

۔ سعودی عرب کو بھی یہ احسا س ہوگیا ہے کہ ایران کو تنہا کرنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آگئی تو اسکے پورے خطہ اور پاکستان پر مثبت اثرات ہوں گے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان باقاعدہ بڑے پیمانے پر تجارت ہوسکے گی۔ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔خطہ میں امن اور استحکام آئے گا۔

Leave a reply