fbpx

پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے. وزیرخارجہ

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے، پاکستان کو عالمی برادری کی مدد کی فوری ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو

اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارشوں سے زیادہ سیلابی صورت حال پیش آئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں ہیٹ ویو نے ریکارڈ توڑ دیے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے، 72 اضلاع میں 3 کروڑ افراد کو سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء تک رسائی مشکل ہورہی ہے، امداد پر دوست ملکوں اور عالمی برادری کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹینٹس اور مچھر دانیوں کی فوری ضرورت ہے۔

احسن اقبال

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال ملک کی تباہی کے تھے، سیلاب پروٹیکشن پروگرام پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا گیا، ہر شعبے کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔ ان بارشوں اور سیلاب سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور ابتدائی تخمینے کے مطابق پاکستان کو تقریباً 10ارب ڈالر سے زیادہ بحالی کے درکار ہو گا اور مختلف شعبوں میں جو نقصان ہوا ہے ہمیں اس کو پورا کرنے کے لیے بڑا سرمایہ درکار ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز اخراجات میں کٹوتی اور سیلاب زدگان کو زیادہ سے زیادہ سامان کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، ہم پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس میں سے بھی جو بچت کر کے فنڈز کو لوگوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ امدادی کارروائیوں میں بڑی چڑھ کر حصہ لیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل میں کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وقت پاکستان کی کاروباری برادری اور صاحب ثروت افراد دل کھول کر حصہ لیں، اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کے لیے موقع ہے کہ وہ دل کھول کر عطیات دے سکتے ہیں جبکہ اگر وہ کام کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کو ہر طرح سہولت دیں، یہ وقت ہے کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے، تباہی بہت بڑی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان فلڈ پروٹیکشن پروگرام جاری تھا جس نے 2010 میں آنے والے سیلاب کی روشنی میں 10سالہ سیلاب سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کی اور پلان کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل نے دی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ (یو این) ہیومینیٹیرین کوآرڈی نیٹر کی پاکستان کے لیے امداد کی کوششیں قابل تعریف ہیں، بارش اور سیلاب سے کپاس کی پچاس فیصد فصل متاثر ہوئی ہے، امید ہے عالمی برادری پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئے گی۔

اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر جولیان ہارنیس

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر جولیان ہارنیس نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے تباہی تصورات سے زیادہ ہے، عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی سے متاثر پاکستان کے لیے اظہار یکجہتی کرے۔ جولیان ہارنیس کا کہنا ہے کہ میں نے سیلاب سے متاثر علاقوں کا دورہ کیا ہے، پاکستان میں سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔

این ڈی ایم اے

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس سال بہار کا موسم نہیں آیا، گرمی شروع ہوگئی، رواں سال مون سون بارشیں وقت سے پہلے شروع ہوئیں۔ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان کو رواں سال چار ہیٹ ویوز کا سامنا رہا، بعض علاقوں میں بارشوں سے 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، قومی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے 72 اضلاع کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، پاکستان میں سیلاب سے 10 لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے، 20 لاکھ ایکڑ زمین اور 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا، سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پاکستان کو امداد کی ضرورت ہے، گرین ہاؤس گیسز عالمی حدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے پاکستان کو 160 ملین ڈالر امداد کی ضرورت ہے۔