پانڈا بانڈ کاکامیاب اجراء:پاکستان کیلئے اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈز کا اعزاز

وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ پاکستان کو پانڈا بانڈ کے کامیاب اجراء پر 2026 کیلئے اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈز میں پائنیئر سسٹین ایبل ساورن پانڈا بانڈ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے
انہوں نے ایکس اکاؤنٹ پر بتایا کہ پانڈ کے اجرا پر ’’پائیدار خودمختار پانڈا بانڈ کے اولین اجرا کنندہ کا ایوارڈ‘‘ دیا گیا ہےپاکستان نے 1.75 ارب چینی یوان مالیت کا اپنا پہلا پائیدار ترقیاتی پانڈا بانڈ مئی 2026 میں جاری کیا،تین سالہ بانڈ 2.5 فیصد کی مسابقتی شرح پر جاری ہوا، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے بانڈ کے حجم سے پانچ گنا سے بھی زیادہ طلب سامنے آئی۔
https://x.com/kschehzad/status/2100161396998627724?s=20
انہوں نے بتایا کہ پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا سے پاکستان کو چین کی وسیع سرمایہ منڈی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ایک نئے ذریعے تک رسائی حاصل ہوئی، پاکستان کے بیرونی مالی وسائل میں تنوع آیا اور پاکستان اور چین کے مالیاتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے،ا س اہم لین د ین کو حکومت پاکستان، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB)، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، چینی حکام، مالیاتی مشیروں، انڈر رائٹرز اور دیگر مارکیٹ شراکت داروں کے تعاون سے کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
خرم شہزاد نے مزید کہا کہ بانڈ سے حاصل ہونے والے وسائل پانی، توانائی اور صحت سمیت ماحول دوست اور سماجی طور پر اہم منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے،یہ عالمی اعزاز پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بڑھتی رسائی، سرمایہ کاروں کے دائرے میں وسعت، مالی وسائل کے نئے ذرائع اور پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کی صلاحیت کا ایک اور اہم اعتراف ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے ویڈیو پیغام میں کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو، حکومت چین، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، سرمایہ کاروں، مشیروں، انڈر رائٹرز اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ دنیا کی دوسری بڑی اور دوسری گہری کیپٹل مارکیٹ سے استفادہ کیا ہے، جس سے ملک کے لیے سرمائے کے ایک وسیع اور نئے ذریعے کے دروازے کھلے ہیں اور پاکستان چین کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مزید تقویت ملی ہے۔
محمد اورنگزیب نے پانڈا بانڈ کو ملنے والے ردعمل کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان چین کی مارکیٹ میں ایک مرتبہ قرض لینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں مزید بانڈز جاری کرنے کے لیے دوبارہ چینی کیپٹل مارکیٹ سے رجوع کرے گا۔
مزید پڑھیں





