ہماری آوازیں بہت ، سماعت کم ،تحریر:طاہر محمود
نقطہ نظر
ہر شخص اپنی کہانی سنانا چاہتا ہے، مگر کسی کی کہانی سننے کو کوئی تیار نہیں
شاید انسان بننے کے لیے بولنے سے زیادہ، سننا سیکھنا ضروری ہے
تحریر: طاہر محمود
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں ہر شخص کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر سننے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر طرف آوازیں ہیں، گفتگو ہے، رائے ہے، بحث ہے اور اظہار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ؛ لیکن اس شور میں ایک خوبصورت انسانی وصف کہیں دھندلا رہا ہے: دوسرے انسان کو دل سے سننے کا ہنر۔
کبھی غور کیجیے، انسان ہمیشہ مشورہ نہیں مانگتا، کبھی وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے پاس بیٹھے، اسے سمجھے اور اس کی بات پوری ہونے دے۔ وہ اپنے دل کا بوجھ لفظوں میں رکھنا چاہتا ہے، مگر ہم اکثر اس کے جملے سے پہلے اپنا جواب تیار کر لیتے ہیں۔
ہم گفتگو کم اور اپنی باری کا انتظار زیادہ کرنے لگے ہیں۔
کسی کے دکھ کا ذکر ہو تو ہم فوراً اپنا دکھ بیان کرنے لگتے ہیں۔ کوئی پریشانی بتائے تو اسے سمجھنے سے پہلے نصیحت شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی اختلاف کرے تو اس کے مؤقف کو جاننے کے بجائے اسے غلط ثابت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
یوں ایک انسان کے دل سے نکلنے والی بات، اس کے لبوں تک آتے آتے ہی دم توڑ دیتی ہے۔
آج سماجی ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا موقع دے دیا ہے۔ ایک لمحے میں خیال ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب سب بول رہے ہوں تو سن کون رہا ہے؟
ہم تعریف سننا چاہتے ہیں، اختلاف نہیں۔
ہم اپنی بات منوانا چاہتے ہیں، دوسرے کی بات سمجھنا نہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے احساسات کا احترام کریں، مگر دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کے لیے چند لمحے نکالنا دشوار محسوس کرتے ہیں۔
حالانکہ کسی انسان کو توجہ سے سن لینا بھی ایک بڑی خدمت ہے۔
سننا صرف کانوں کا عمل نہیں، دل کی کیفیت بھی ہے۔
کسی کی آواز سن لینا آسان ہے، مگر اس آواز میں چھپی تھکن کو محسوس کرنا مشکل۔ الفاظ سن لینا آسان ہے، مگر ان کے درمیان موجود خاموشی کو سمجھنا اصل کمال ہے۔
کبھی کوئی کہتا ہے، „میں بالکل ٹھیک ہوں“، مگر اس کے لہجے میں چھپا دکھ اس کے الفاظ کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ ہم اگر صرف الفاظ سنیں گے تو شاید کچھ نہ سمجھ سکیں، لیکن اگر دل سے سنیں تو ممکن ہے اس ایک جملے کے پیچھے چھپی پوری داستان پڑھ لیں۔
زندگی کے سب سے قیمتی رشتے بھی اسی سماعت کے محتاج ہیں۔
ایک ماں شاید اپنے بچے سے صرف چند لمحے بات کرنا چاہتی ہے۔ ایک باپ شاید اپنے تجربات کسی کے ساتھ بانٹنے کا خواہش مند ہو۔ ایک بزرگ شاید اپنی تنہائی میں کسی مانوس آواز کا منتظر ہو۔ ایک دوست شاید مسکراتے ہوئے اپنے اندر کا دکھ چھپا رہا ہو۔
مگر ہم سب مصروف ہیں۔
اتنے مصروف کہ اپنے قریب بیٹھے انسان کے چہرے کو پڑھنے، اس کے لہجے کو سمجھنے اور اس کی خاموشی کو محسوس کرنے کا وقت نہیں نکالتے۔
یہی ہماری جدید زندگی کا ایک بڑا المیہ ہے۔
ہم دنیا بھر کی خبریں جانتے ہیں، مگر اپنے گھر میں موجود دل کی خبر نہیں رکھتے۔ ہم دور بیٹھے لوگوں کی سرگرمیوں پر اپنی رائے دیتے ہیں، مگر قریب بیٹھے شخص کی خاموشی ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔
کتنے ہی رشتے شاید محبت ختم ہونے سے نہیں، ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دینے سے کمزور ہوئے۔
جب میاں بیوی ایک دوسرے کی بات سننا چھوڑ دیں تو معمولی شکوے فاصلے بن جاتے ہیں۔ جب والدین بچوں کے سوالوں کو نظرانداز کریں تو بچے اپنے دل کی بات باہر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب دوست ایک دوسرے کے احساسات سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو قربت کے باوجود اجنبیت پیدا ہو جاتی ہے۔
اس لیے ہمیں سننے کا ہنر دوبارہ سیکھنا ہوگا۔
اپنے بچوں کو سنیں۔
اپنے والدین کو سنیں۔
اپنے دوستوں کو سنیں۔
اپنے ساتھیوں کو سنیں۔
اور سب سے بڑھ کر، اس شخص کو بھی سنیں جس سے آپ اختلاف رکھتے ہیں۔
کیونکہ اختلاف کے باوجود کسی کو سن لینا برداشت کی پہلی سیڑھی ہے۔ مکالمہ اسی وقت جنم لیتا ہے جب دو انسان ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ہر دکھ کا علاج بتانا بھی ضروری نہیں۔ بعض اوقات انسان کو کسی حل سے زیادہ ایک ایسے دل کی ضرورت ہوتی ہے جو خاموشی سے کہہ دے:
„میں تمہاری بات سن رہا ہوں۔“
یہ چند الفاظ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے گھروں میں پھر سے گفتگو کی روایت زندہ کرنی ہوگی۔ کھانے کی میز پر اسکرینوں کے بجائے چہروں کو دیکھنا ہوگا۔ بچوں کے سوالوں کو بوجھ نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے دروازے سمجھنا ہوگا۔ بزرگوں کی باتوں کو پرانی داستان نہیں بلکہ زندگی کا تجربہ سمجھنا ہوگا۔
کیونکہ کسی کو سننا دراصل اسے یہ احساس دینا ہے کہ „تم اہم ہو، تمہاری بات اہم ہے، تمہارا احساس بے معنی نہیں۔“
اور شاید آج کے انسان کو اسی احساس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص اپنے اندر ایک ایسی داستان لیے پھرتا ہے جو ہر کسی کے سامنے نہیں کھلتی۔ کچھ دکھ زبان تک آ کر رک جاتے ہیں، کچھ آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہیں اور کچھ خاموشی کا لباس پہن کر برسوں دل میں رہتے ہیں۔
کبھی کسی کے لیے وہ شخص بن جائیے جس کے سامنے وہ اپنی خاموشی بھی رکھ سکے۔
اس کی بات نہ کاٹیے۔
اس کے احساس کا مذاق نہ بنائیے۔
فوراً فیصلہ نہ سنائیے۔
بس اسے کچھ دیر سن لیجیے۔
ممکن ہے آپ کی چند خاموش ساعتیں کسی کے دل میں برسوں کی روشنی بن جائیں۔
دنیا کو آج بلند آوازوں کی نہیں، بیدار دلوں کی ضرورت ہے۔
ایسے دل جو لفظوں کے ساتھ خاموشی بھی سن سکیں، چہرے کے ساتھ چھپی اداسی بھی پڑھ سکیں اور اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کے وجود کا احترام کر سکیں۔
کیونکہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں یہ یاد نہ رہے کہ ہم نے کتنی گفتگوئیں جیتیں، کتنے دلائل دیے یا کتنے لوگوں کو اپنی بات کا قائل کیا؛ لیکن یہ ضرور یاد رہ سکتا ہے کہ جب کسی کو ہماری ضرورت تھی، ہم نے اسے وقت دیا تھا، اس کی بات سنی تھی اور اسے یہ احساس دلایا تھا کہ وہ اکیلا نہیں۔
شاید انسانیت کی سب سے خوبصورت آواز وہی ہے جو شور میں بلند ہونے کے بجائے خاموشی میں سنائی دیتی ہے۔
اور شاید محبت کا سب سے سادہ، مگر سب سے گہرا اظہار بھی یہی ہے کہ
کوئی اپنا دل کھول کر بات کرے اور ہم اپنی دنیا کی تمام آوازیں چند لمحوں کے لیے خاموش کرکے صرف اسے سن لیں۔
کیونکہ کبھی کبھی کسی انسان کو بچانے کے لیے الفاظ نہیں،
صرف ایک سننے والا دل کافی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





