Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹیکنالوجی کا دور اور ایمان کی آزمائش،تحریر: اقصیٰ وحید

aqsa waheed

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ہر طرف مشینوں کی گونج، اسکرینوں کی چمک اور ڈیجیٹل دنیا کی رنگینیاں ہیں۔ انسان نے ترقی کی ایسی منزلیں طے کر لی ہیں جن کا تصور چند دہائیوں قبل محض خیالی کہانیوں میں ممکن تھا۔ آج ہم ایک بٹن دبا کر دنیا کے کسی بھی کونے سے بات کر سکتے ہیں لمحوں میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک سوال چھپا ہوا ہے جو ہماری روحانیت سے جڑا ہوا ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی ہمارے ایمان کو مضبوط کر رہی ہے یا اسے کمزور؟

یہ سوال اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے لیکن اس نے ہم سے بھی بہت کچھ لے لیا ہے۔ آج کا انسان اپنے موبائل فون کے بغیر ادھورا محسوس کرتا ہے لیکن نماز کے بغیر اس کے دن میں کوئی کمی نہیں۔ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر سکرول کرتے رہتے ہیں لیکن قرآن مجید کی تلاوت کے لیے چند منٹ بھی نہیں نکال پاتے۔ یہ تضاد ہماری زندگی کی حقیقت بن چکا ہے۔

ٹیکنالوجی نے ہماری توجہ کو منتشر کر دیا ہے۔ پہلے انسان کے پاس وقت تھا، سوچنے کی فرصت تھی اور اپنے خالق سے رابطہ قائم کرنے کا موقع تھا۔ آج ہم ہر لمحہ کسی نہ کسی اطلاع کے منتظر رہتے ہیں۔ ہمارا ذہن مسلسل مصروف رہتا ہے اور اس بھاگ دوڑ میں ہم اپنی روحانیت کو بھول گئے ہیں۔ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو دماغ میں وہی سوشل میڈیا کی تحریریں گھوم رہی ہوتی ہیں جو ابھی ابھی دیکھی تھیں۔

اس دور نے ہمیں سہولت دی ہے لیکن صبر چھین لیا ہے۔ ہم فوری نتائج چاہتے ہیں، فوری جوابات چاہتے ہیں، اور فوری خوشیاں چاہتے ہیں۔ لیکن ایمان ایک ایسا عمل ہے جو صبر، تحمل اور مسلسل کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے لمحوں میں حاصل کر لیا جائے۔ یہ ایک سفر ہے جو عمر بھر جاری رہتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کے اثرات میں ہم نے صبر کرنا بھول دیا ہے۔

سوشل میڈیا نے ہمیں ایک اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی پر ناشکری کرنے لگے ہیں۔ شکر کی جگہ شکایت نے لے لی ہے۔ کوئی نیا گھر لیتا ہے تو ہمیں اپنا گھر چھوٹا نظر آنے لگتا ہےـ کوئی بیرون ملک سفر کرتا ہے تو ہمیں اپنی زندگی بے رنگ محسوس ہوتی ہے۔ یہ موازنے ہمارے دل میں بے چینی پیدا کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی صرف نقصان ہی دے رہی ہے۔ اگر ہم اسے صحیح طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ آج قرآن مجید کی تفاسیر، احادیث مبارکہ، اسلامی خطبات، اور علماء کرام کی تعلیمات صرف ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ ہم گھر بیٹھے دین کی سمجھ حاصل کر سکتے ہیں نماز کے اوقات کی یاد دہانی حاصل کر سکتے ہیں اور قرآن پاک کی تلاوت اپنے فون پر سن سکتے ہیں۔

مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔ ہم نے اسے اپنا آقا بنا لیا ہے جب کہ یہ صرف ایک ذریعہ ہونا چاہیے تھا۔ ہم اس کے غلام بن گئے ہیں جب کہ ہمیں اس پر قابو رکھنا چاہیے تھا۔

اصل آزمائش یہ ہے کہ ہم اس دور میں کیسے توازن قائم رکھتے ہیں۔ کیسے ہم ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن اپنی روحانیت کو قربان نہیں کرتے۔ کیسے ہم دنیا میں رہتے ہیں لیکن اپنے خالق سے تعلق برقرار رکھتے ہیں۔

اس کے لیے ہمیں کچھ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ موبائل فون کو سونے کے کمرے سے باہر رکھنا، نماز سے قبل تمام آلات بند کر دینا، اور دن میں کچھ وقت صرف ذکر الٰہی اور عبادت کے لیے مخصوص کرنا۔ سوشل میڈیا پر وقت کی حد مقرر کرنا اور اس وقت کو قرآن کریم کی تلاوت یا اسلامی کتب کے مطالعے میں لگانا۔

ٹیکنالوجی ایک نعمت ہے اگر ہم اسے نعمت کی طرح استعمال کریں۔ لیکن اگر ہم نے اسے اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا تو یہ فتنہ بن جائے گی۔ اللہ رب العزت نے ہمیں عقل عطا فرمائی ہے تاکہ ہم ہر چیز کو صحیح تناظر میں رکھ سکیں۔

آج کا دور واقعی ایمان کی آزمائش ہے لیکن یاد رکھیے کہ ہر آزمائش میں کامیابی کا راستہ بھی چھپا ہوتا ہے۔ بس ضرورت ہے شعور، دانش مندی، اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں اپنے ایمان کو کھو دیں یا اسے مزید پختہ بنائیں۔

انتخاب ہمارا ہے اور انتخاب کا وقت اب ہے۔