کوئٹہ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے قیام پر جشن

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے قیام کو ’یومِ نجات‘ قرار دیتے ہوئے کوئٹہ میں جشن منایا گیا۔
خیبرپختونخوا کے بعض شہریوں نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’یومِ نجات‘ قرار دیا ہے اور خوشی کے اظہار کے لیے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ شہریوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر گزشتہ 13 سے 14 سال کے دوران کرپشن، ترقیاتی کاموں میں ناکامی اور دھرنوں کی سیاست کو ترجیح دینے کے الزامات عائد کیے۔
https://x.com/irfijournalist/status/2109186081144873373?s=20
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر علی مدد جتک کی زیرِ اہتمام ریلی نکالی گئی، جس میں کارکنوں نے پاکستانی پرچم اٹھا کر ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا,ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علی مدد جتک نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے لیے فتنہ بن چکی ہے اور گورنر راج کے قیام سے خیبرپختونخوا کے عوام کو اس فتنے سے نجات ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پاکستان کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے اور اس کی سیاست سے ملک کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں اور ہماری سیاست بھی ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ صوبے میں طویل عرصے سے ایسی حکومت رہی جس کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ان کے بقول، خیبرپختو نخوا کے مختلف اضلاع کے لیے مختص فنڈز سے خاطرخواہ ترقیاتی کام نہیں ہوئے اور سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور دھرنوں پر توجہ دینے کے باعث صوبہ ترقی میں پیچھے رہ گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر قومی اداروں کے خلاف بیانیہ اپنانے اور ملک میں سیاسی انتشار کو فروغ دینے کے الزامات بھی عائد کیے۔ شہریوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے نجات کے فیصلے پر خوش ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نئے انتظامی سیٹ اپ میں دہشتگردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔
https://x.com/UmarRao333/status/2109200751432217054?s=20
شہریوں نے نئے نظام سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو جلسوں، جلوسوں اور ہڑتالوں کی سیاست کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی پر توجہ دینے والی حکومت کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں





