Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوان نسل کا شعور،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

جس ملک کے نوجوان با شعور ہوتے ہیں، اپنے علم، سوچ، سمجھ اور شعور کی بدولت جب حالات کا جائزہ لے کر اس کو بہتر اقدامات فراہم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ملک کی کارکردگی کو بہترین دیکھنا چاہتے ہوں تب وہ ہر ہوتے غلط کام اور ہر ایک پر ہوتے ظلم پر سوال ضرور اٹھائیں گے۔ ان کا حق ہے سوال کرنے، ان کے جواب طلب کرنے اور دلیل مانگنے کا۔

آج کل وہی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے جس کے با شعور نوجوانوں کی باتوں کو سمجھا جائے اس پر عمل پیرا ہو کر اس ملک کو نا انصافی اور ظلم کے اندھیروں سے بچایا جا سکے۔ آج کے نوجوان میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ موجودہ حالات پر سوال اٹھا سکے؟ ان کے جواب کا منتظر ہو اور ان حالات کا کوئی حل تجاوز کر سکے۔ آج کا نوجوان جس کے پاس تعلیمی قابلیت کے ساتھ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ہر سہولت موجود ہے۔ وہ ہر طرح کی سمجھ اور شعور رکھتا ہے۔ وہ اپنے ہر سوال کی دلیل مانگتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ کیوں لوگ تعلیم یافتہ ہو کر بھی بے روزگار ہیں؟

کیوں تعلیمی اداروں کے نظام کو بہتر نہیں بنایا جاتا ہے؟ کیا عوام کو زندہ رہنے کے لیے ساری سہولیات دی جا رہی ہیں یا نہیں؟ جس کی وجہ سے وہ خود کشی جیسے گناہ سے بچ سکیں؟ کیا یہ سب باتیں اور انصاف صرف کتابوں تک محدود رہ گیا ہے؟ کون ہے ان سب کا ذمہ دار؟ کون ہے ان سب باتوں کا جوابدہ؟ وہ ان سب کی وجوہات جاننے کا حق رکھتا ہے۔


نوجوانوں کا یہ سوال اٹھانا جائز ہے۔ کیوں کہ وہ بھی اس معاشرے کا مضبوط رکن ہے۔ وہ چاہتے ہیں جس معاشرے اور ملک میں وہ رہتے ہیں وہاں ان کو ہر طرح کی آزادی دی جا سکے۔ جس میں وہ سکون کا سانس لے سکیں۔ پر سکون عزت کی زندگی بسر کر سکیں۔

اگر ان کے سوالات پر بغور جائزہ لیا جائے ان کے جوابات مثبت طریقے سے سوچ کر ان کے حل نکالے جائیں تو یقیناً ہر معاشرہ، ہر ملک ترقی کر سکے گا۔ ہر معاشرے کے لوگ مل جل کر پیار و محبت سے رہ سکیں گے۔ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہی تب بنتی ہے جس کی قوم میں سچائی، دیانت داری، پیار، محبت، خلوص، عزت، احترام، چاہت شامل ہوتی ہے۔ وہ آپس میں مل جل کر اتفاق سے رہتے ہیں اور اپنی نوجوان با شعور نسل کے ہر سوال کو مثبت سوچ رکھتے ہوئے ان کے جواب دیتے ہیں اور ان کا بہتر حل نکالتے ہیں۔


نوجوانوں کے سوالات کو ان کی آوازوں کو دبائیں نہیں۔ بلکہ ان کے جوابات کو دینے کا حوصلہ اور جرأت کریں۔ ان کے سوالات سے اپنے ملک کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ نوجوان کے ہر سوال میں اپنے ملک کی ترقی کے لیے مثبت سوچ ہوتی ہے۔ وہ ہر سوال کی دلیل بھی اس لیے چاہتا ہے تاکہ اس کے ملک کا نام روشن ہو سکے۔ یہاں سے ہر برائی کو ختم کیا جا سکے اور ایک ترقی یافتہ با شعور ملک میں عزت و سکون کے ساتھ رہ سکے۔ نوجوان کا شعور اس لیے معنی رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کو خوشحالی کی طرف لانے میں قدم اٹھا سکے۔ ملک میں ظلم و زیادتی کو روک سکے۔ عدل و انصاف کو قائم کر سکے۔ اگر وہ ان سب پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کی آواز کو بند نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ملک کے حالات بہتر کیے جائیں۔ ایک تربیت یافتہ معاشرہ بنایا جائے۔ نوجوان کا سوال اٹھانا کوئی گستاخی یا بدتمیزی کے زمرے میں شمار نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے شعور کے مطابق ہر جواب اور دلیل کا طلب گار ہوتا ہے جو موجودہ حالات میں بڑھتے رجحان اور فساد کو دیکھتا ہے۔


وہ جاننا چاہتا ہے کہ یہاں کیوں ہر ایک کی محنت کا صلہ نہیں دیا جاتا ہے؟ کیوں ہر آواز کو بلند ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے؟ کیوں کسی کو انصاف نہیں مل پاتا؟ کیوں ہر اس باب کو ہی بند کر دیا جاتا ہے کہ کوئی اس کے نتیجہ پر پہنچ ہی نہ سکے؟ کیا یہ مسلم معاشرے کی تہذیب ہے جہاں جتنی مرضی نا انصافیاں ہوتی رہیں اور کوئی کسی سے پوچھنے والا ہی نہ ہو؟ کوئی ان کا حل نکالنے کے قابل ہی نہ ہو اور بس اس معاشرے میں اپنی قوت کے بل پر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے جا رہے ہیں۔ لیکن جب ہی کوئی نوجوان ان نا انصافیوں پر آواز اٹھا کر سوال کرتا ہے تب اس کی آواز کو بند کر دیا جاتا ہے بلکہ اس کے خاندان تک کو غائب کر دیا جاتا ہے کہ کوئی کچھ کہنے کے لائق ہی نہ رہے۔ کبھی ان کو رشوت دے کر ان کے منہ بند کروا دیے جاتے ہیں، تو کبھی ان کی زندگی ہی ختم کر کے ان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ کیا بس یہ ہے ہمارے معاشرے کی پہچان؟ جہاں ایک نوجوان کی آواز اٹھانے پر اس کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے اور ایک درد ناک سزا دے کر اس کا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔


اگر ایک ملک کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی چاہیے تو نوجوانوں کی آوازوں کو بند نہ کریں۔ ان کے کیے گئے سوالوں سے مت ڈریں۔ بلکہ ان کے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بہترین حل تجاوز کریں۔ بہترین اور مثبت فیصلے کرنے کی ہمت کریں۔ سب غلط کاموں اور ان کی سازشوں کو ختم کریں۔ تاکہ ہر انسان کو عدالت میں انصاف مل سکے۔ اپنے ملک کو دین اسلام پر عمل پیرا ہو کر چلانے کی جرأت کریں۔ ایک مکمل اور ترقی یافتہ با شعور ملک بنانے کی جستجو کریں۔ اپنی نوجوان نسل کا ساتھ نبھائیں جس کی بدولت آپ کا ملک کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکے گا اور آپ ایک ترقی یافتہ با شعور ملک کے باشندے کہلائیں گے۔