پرانے سکولوں کی اہمیت صرف کاغذوں تک محدود,قصور کا قدیم سکول کھنڈرات کا ڈھیربن گیا

قصور کا نایاب اور قدیم سکول کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا، گورنمنٹ فوڈ کورٹ، سولجر وال اور دیگر کاموں میں مصروف، آخر قومی ورثے کا وارث کون؟
قصور میں کوٹ فتح دین نزد ڈیرہ خضر حیات کے ساتھ واقع گورنمنٹ ایم سی پرائمری سکول کوٹ فتح دین خان قصور ایک قدیم ترین سکول ہے جو اب کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا ہے یہ وہ سکول ہے جہاں سے بہت سے لوگ پڑھ لکھ کر اعلیٰ مقام تک پہنچے اور یقیناً گورنمنٹوں کا حصہ بھی بنتے رہے ہوں گے، تاہم اس کی حالت زار کا خیال کسی کو نہ آیا-
افسوس، آج اس سکول کی حالت یہ ہے کہ اس کی چھتیں تو مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں جبکہ در و دیوار بھی بہت پرانے ہیں سوال یہ ہے کہ آخر اس قومی ورثے کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟کیا اس سکول کی اہمیت صرف اس وقت تک تھی جب تک یہاں سے لوگ تعلیم حاصل کرتے رہے؟ٓ
کیا اس کے بعد اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی؟ یا پھر ہمارے نظام میں پرانے سکولوں کی اہمیت صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟ا یک طرف گورنمنٹ قصور میں فوڈ کورٹ، سڑکوں کی تزئین و آرائش اور سولجر وال بنانے میں مگن ہے تو دوسری سمت ہمارا قومی ورثہ تباہ ہو چکا ہے-
ترقیاتی کام یقیناً ضروری ہیں لیکن کیا تعلیم کی بنیاد رکھنے والے اداروں کو یوں بے یار و مددگار چھوڑ دینا بھی ترقی ہے؟کیا حکومت کی ترجیحات میں ایک قدیم سکول کی ازسر نو تعمیر کی کوئی جگہ نہیں؟اگر شہر کی خوبصورتی کے لیے وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں تو اس سکول کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جا سکتے؟جبکہ حکومت کے پاس طیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کے لیے فنڈز موجود ہیں-
https://x.com/BaaghiTV/status/2109203371978830221?s=20
یہ صرف ایک سکول کی عمارت کی تباہی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی اور حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جس ادارے سے بہت سے لوگ پڑھ لکھ کر اعلیٰ مقام تک پہنچے، اسی ادارے کو آج کھنڈرات میں تبدیل ہوتے دیکھ کر بھی کسی کے ضمیر پر دستک نہیں ہوتی۔ کیا یہی ہمارے تعلیمی نظام کی قدر ہے؟ کیا یہی ان اداروں کا انجام ہونا چاہیے جنہوں نے نسلوں کو تعلیم دی؟
اہلیان علاقہ نے پہلے بھی کئی بار ہر گورنمنٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی تعمیر ازسر نو کی جائے، تاہم کسی نے کوئی بات نہیں سنی۔ بار بار توجہ دلانے کے باوجود اگر کسی ادارے کی حالت نہ بدلے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ عوام کی آواز آخر کس کے لیے ہے؟ کیا عوام کے مطالبات صرف سننے کے لیے ہوتے ہیں یا ان پر عمل کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے؟
اب ایک بار پھر مقامی لوگوں نے موجودہ گورنمنٹ سے اس کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ایک قدیم تعلیمی ادارے کو بچانے کے لیے ہے جو ہماری تاریخ اور قومی ورثے کا حصہ ہے حکومت کو چاہیے کہ اس مطالبے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کرے، بلکہ فوری طور پر سکول کی حالت کا جائزہ لے اور اس کی ازسر نو تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرے-
اس کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کا یہ مطالبہ بھی انتہائی اہم ہے کہ تحقیق کی جائے کہ ماضی میں اس سکول کے جو فنڈز آتے رہے، وہ کہاں گئے؟اگر فنڈز جاری ہوتے رہے تو پھر یہ سکول کھنڈرات میں کیسے تبدیل ہوا؟ اس کی چھتیں مکمل طور پر ختم کیوں ہو گئیں؟در و دیوار اس قدر پرانے اور خستہ حال کیوں ہو گئے؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت دعووں اور ترجیحات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے فوڈ کورٹ، سڑکوں کی تزئین و آرائش اور سولجر وال اپنی جگہ لیکن تعلیم کے ایک قدیم ادارے کو کھنڈرات میں تبدیل ہونے دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے،اگر حکومت اس سکول کی ازسر نو تعمیر نہیں کر سکتی تو پھر قومی ورثے کے تحفظ اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے دعوے کس بنیاد پر کیے جاتے ہیں؟
قصور کے گورنمنٹ ایم سی پرائمری سکول کوٹ فتح دین خان کی تباہ حال عمارت آج بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کی حالت زار کا خیال کسی کو نہ آیااب فیصلہ موجودہ گورنمنٹ نے کرنا ہے کہ وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اس مطالبے کو نظر انداز کرتی ہے یا اس قدیم سکول کی بحالی کے لیے سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے
اہلیان علاقہ کا مطالبہ واضح ہے کہ سکول کی ازسر نو تعمیر کی جائے اور ماضی میں آنے والے فنڈز کی تحقیقات کی جائیں اور اس قومی ورثے کو مزید تباہ ہونے سے بچایا جائے۔کیونکہ اگر آج بھی اس سکول کی بحالی کے لیے قدم نہ اٹھایا گیا تو کل اس کی تاریخ اس کی شناخت اور اس کے وجود کو بچانا شاید ممکن نہ رہے
مزید پڑھیں





