افسانہ، معجزہ،تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
شہر کی ہنگامہ خیز گلیوں کے بیچ، ایک خاموش سی بستی میں، عائشہ نام کی ایک عورت رہتی تھی۔ دنیا کی نظر میں وہ ایک بیوہ تھی، قرضوں میں ڈوبی ہوئی، بے سہارا… مگر حقیقت میں وہ ایک مسافر تھی—اس راہ کی مسافر، جہاں دکھ دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور راز دل کے اندر اترتے ہیں۔
اس کا شوہر جا چکا تھا، مگر اپنے پیچھے کچھ ادھورے قرض چھوڑ گیا تھا۔ لوگ دروازے پر آ کر تقاضے کرتے، اور ہر تقاضا اس کے دل پر ایک نئی ضرب لگاتا۔
ایک رات، جب شہر سو چکا تھا اور خاموشی اپنے سیاہ پروں کو پھیلائے بیٹھی تھی، عائشہ کے اندر کی آواز نے اسے ایک درویش کے پاس جانے پر مجبور کیا۔
وہ درویش، جسے لوگ سلیم شاہ کہتے تھے، شہر کے شور سے الگ ایک پرانے حجرے میں بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا—جیسے وہ ظاہر سے نہیں، باطن سے دیکھتا ہو۔
عائشہ نے آہستہ سے کہا،“بابا… میرے پاس کچھ نہیں بچا۔”
درویش مسکرایا۔“کچھ بھی نہیں؟ اپنے اندر دیکھو، تمہارے پاس کیا ہے؟”
عائشہ نے آنکھیں بند کیں … اور جیسے پہلی بار اپنے اندر جھانکا۔“ایک بوند… بس ایک بوند امید کی ہے۔”
درویش نے سر ہلایا،“بس وہی کافی ہے۔”
پھر اس نے کہا،“جاؤ… اپنے اردگرد کے لوگوں سے خالی برتن جمع کرو۔ مگر یاد رکھو—یہ برتن تمہارے دل کی طرح ہونے چاہئیں، خالی… اور دروازہ بند کر لینا، تاکہ تم اور تمہارا رب آمنے سامنے ہو سکو۔”
عائشہ لوٹ آئی۔ اس نے لوگوں سے برتن لیے—کسی نے طنز کیا، کسی نے ترس کھایا، مگر وہ خاموش رہی۔ کیونکہ اب وہ جان چکی تھی کہ یہ سفر لوگوں کے لیے نہیں، اپنے رب کے لیے ہے۔
رات کے اندھیرے میں، اس نے دروازہ بند کیا۔
یہ دروازہ صرف لکڑی کا نہیں تھا—یہ دنیا اور اس کے شور کے درمیان ایک پردہ تھا۔
اس نے وہ چھوٹی سی بوتل اٹھائی۔
“یا رب…”اس کے لب ہلے۔پہلا برتن بھرا… پھر دوسرا… پھر تیسرا…
اور ہر بار، تیل بہتا گیا—جیسے رحمت کا دریا، جو نہ آنکھ سے نظر آتا ہے، نہ عقل سے سمجھ میں آتا ہے۔بچے حیران تھے، مگر عائشہ کی آنکھوں میں اب حیرت نہیں، یقین تھا۔
وہ جان چکی تھی—کہ جب دل خالی ہو جائے، تو رحمت خود اسے بھر دیتی ہے۔
آخر کار، جب آخری برتن بھی بھر گیا، تو تیل رک گیا۔عائشہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔اسے سمجھ آ گیا تھا—کہ رزق برتنوں کی گنتی سے نہیں، دل کی وسعت سے آتا ہے۔
اگلے دن، وہ درویش کے پاس گئی۔اس نے کہا،“بابا… یہ سب کیا تھا؟”درویش نے مسکرا کر جواب دیا،“یہ تمہارا راز تھا۔ تمہیں دکھایا گیا کہ تم خالی نہیں تھیں … تمہارے اندر وہ خزانہ تھا، جسے تم نے پہچانا نہیں تھا۔”
پھر اس نے کہا،“اب جا… قرض بھی اتار دے، اور زندگی بھی سنوار لے۔ مگر ایک بات یاد رکھ—تیل ختم ہو سکتا ہے، مگر وہ ذات نہیں جس نے اسے بہایا تھا۔”
عائشہ لوٹ آئی، مگر اب وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔
اب وہ جان چکی تھی کہفقر میں بھی غنا چھپا ہوتا ہے،اور کمی میں بھی کثرت کا راز۔
لوگ آج بھی اس سے پوچھتے ہیں،“تمہاری زندگی کیسے بدلی؟”
وہ مسکرا کر کہتی ہے،“جب میں نے اپنے ہاتھ خالی کیے…تو اس نے اپنی رحمت سے بھر دیے۔”





