کچھ لوگ اپنے نام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، کچھ اپنے کام کی وجہ سے اور کچھ اپنے الفاظ سے اپنی شخصیت کا عکس لوگوں کے دلوں پر چھوڑ جاتے ہیں۔
مجھ سے ملئے، میں لفظوں کی دنیا کی ایک ادنی سی مکین ہوں، جہاں قلم میرا ہم سفر اور کتابیں میری ہم نشین و ہم مکتب ہیں۔
میرا نام عائشہ ہے اور ادبی حلقوں میں عائش احمد کے نام سے جانی جاتی ہوں۔ میرا آبائی شہر سندھ کا مشہور اور تاریخی شہر سکھر ہے، مگر فی الحال پاکستان کے سب سے بڑے شہر، شہرِ کراچی سے تعلق ہے۔ ابتدائی عصری تعلیم سکھر میں حاصل کی، پھر کراچی منتقل ہوئی، جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے علمِ دین کی دولت سے مالا مال فرمایا اور انبیائے کرام علیہم السلام کے ورثاء میں شمار ہونے کا شرف عطا فرمایا۔ فللہ الحمد والمنۃ۔
میری زندگی کے قیمتی چودہ سال، میرے شباب کا ایک خوبصورت حصہ، الحمدللہ شہرِ ہذا کی ایک دینی درس گاہ جامعہ خدیجہ الکبریٰ للبنات کی علمی و تربیتی فضا میں گزرا۔ چھ سال یہاں طالبہ کی حیثیت سے علم حاصل کیا، اور گزشتہ سات برس سے اسی درس گاہ میں تدریسی فرائض انجام دے رہی ہوں۔ یوں جس گلشن میں کبھی علم کے پھول چنتی تھی، آج اسی گلشن کے پودوں کی آبیاری میں مصروف ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے عربی زبان پر عبور دیا ہے اور اسی لغتِ قرآن مجید، لغتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لغتِ اہلِ جنت کو فروغ دینے کے لیے قبول فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ تفسیر و حدیث شریف کی خدمت کرنے کا شرف بھی عطا فرمایا ہے، جس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کروں ناکافی ہے۔
مطالعہ میرے لیے محض مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک خوبصورت حصہ ہے، کتابوں کا میری زندگی میں نہ ہونا میرے لئے جسد بلا روح کی مانند ہے۔ اردو ادب سے تعلق و محبت بچپن سے ہی اللہ نے دل میں ودیعت رکھی ہے۔ الفاظ سے محبت نے مجھے اپنے احساسات، مشاہدات اور خیالات کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا شوق عطا کیا۔ اسی لیے جب دل میں کوئی خیال جنم لیتا ہے تو اسے الفاظ میں ڈھالنے کی خواہش ہونے لگتی ہے۔
میری خواہش ہے کہ میرے الفاظ محض کاغذ پر بکھرنے والی سیاہی نہ بنیں بلکہ لوگوں کے دلوں کو چھو جائیں، کسی غم زدہ دل کے لیے مرہم بنیں، کسی منفی سوچ کو مثبت رخ دیں اور معاشرے میں خیر، اصلاح اور امن و امان کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔
ادب کی تقریباً تمام اصناف سے شغف ہے۔ افسانہ ہو یا ناول، مضمون ہو یا خاکہ، سفرنامہ ہو یا آپ بیتی، ہر صنف اپنی جگہ مجھے اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ مطالعے کے ساتھ ساتھ مختلف اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
قلم سے اپنے احساسات بکھیرنے کا آغاز چند ماہ قبل فیس بک کے مختلف ادبی پلیٹ فارمز سے ہوا۔ مختصر عرصے میں کئی مضامین، کالم، دو افسانے اور متعدد مختصر کہانیاں اخبارات و رسائل کی زینت بن چکی ہیں۔ یہ میرے لیے محض اعزاز نہیں بلکہ اس سفر کو مزید جاری رکھنے کی ایک حوصلہ افزائی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری مختصر پہلی آپ بیتی انتھالوجی کتاب "نقشِ نو" میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ تحریر میری زندگی کے کچھ خوبصورت تجربات، مشاہدات اور احساسات کا عکس ہے؛ جو وقت نے میرے دل و ذہن پر ثبت کیے اور جنہیں میں نے لفظوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
میری منزل ابھی دور ہے اور سفر جاری ہے؛ کیوں کہ میری خواہشات بہت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک حفظِ قرآن ہے، جو کہ الحمد للّہ جاری و ساری ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہر مسلمان خصوصاً عالمِ دین کو کتاب اللہ کا حامل ہونا چاہیے جو اس کے دل و سینہ میں محفوظ ہو، جسے جب چاہے سفر و حضر میں اور اثناء اعمال وہ پڑھ سکے۔ نہ وہ فرصت سے وقت نکالنے کا محتاج ہو اور نہ وضو کرنے کا۔ ہاں البتہ اگر ایسا کرے گا تو بلا شبہ یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔
سب کی طرح میری زندگی بھی کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ جب تک زندگی میں آزمائشیں نہ آئیں، انسان کی صلاحیتیں نکھرتی نہیں ہیں، جیسے سونا بھٹی میں گزر کر ہی سونا بنتا ہے، ہیرے کو تراش کر ہی ہیرا بنایا جاتا ہے اسی طرح انسان کو بھی آزمائشوں کی بھٹی میں گزار کر ہی نکھارا جاتا ہے تبھی وہ ایسا ہیرا بنتا ہے جو دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس علمی و ادبی اور قلمی سفر کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے ترقی دے کر اپنی اور معاشرت کی خیر و اصلاح کا ذریعہ بنائے اور میرے الفاظ کو میرے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
مزید پڑھیں






