پی سی بی کا ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع ،محسن نقوی کا خطاب

لاہور: چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں ملک بھر کے 1400 اسکولوں کے 21 ہزار طلبہ حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی 50 ٹیموں کو پاکستان کرکٹ بورڈ اپنائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی سی بی نے اسکول کرکٹ کے فروغ اور نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا ہے، جس میں گوادر سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک ملک بھر کے اسکولوں کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2900 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ ٹورنامنٹ کا فائنل دسمبر میں ہوگا۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ 1400 اسکولوں میں سے نمایاں کارکردگی دکھانے والی 50 ٹیموں کو پاکستان کرکٹ بورڈ اپنائے گا۔ ان ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تربیت، غذائیت اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ جن اسکولوں میں کرکٹ گراؤنڈ یا دیگر سہولیات دستیاب نہیں ہوں گی، وہاں بھی ضروری سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسکول کرکٹ کو مستقل بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے پی سی بی میں ڈائریکٹر اسکول کرکٹ تعینات کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ایک مکمل ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو سال بھر اسکولوں سے رابطے میں رہے گی اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف ٹیموں کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کافی نہیں، کیونکہ بعض اوقات کسی ٹیم کی مجموعی کارکردگی اچھی نہیں ہوتی، لیکن اس میں غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل کھلاڑی موجود ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے کھلاڑیوں کی شناخت کے لیے کرکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی جارہی ہے، جو انفرادی طور پر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور باصلاحیت بچوں کو سامنے لائے گی۔چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ تقریباً 25 نوجوان کھلاڑیوں پر پہلے ہی اکیڈمی کی سطح پر کام کیا جارہا ہے، جن کے حوالے سے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کیا جائے گا۔محسن نقوی نے میڈیا سے اپیل کی کہ اسکول کرکٹ کے فروغ کے لیے پی سی بی کا ساتھ دیا جائے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں شریک اسکولوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔
مزید پڑھیں





