Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

روس کی نیٹو کو نیوکلئیر حملے کی دھمکی

russia

بالٹک خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران روس نے نیٹو کو خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی اتحاد نے روسی علاقے کالی ننگراڈ کو باقی ملک سے کاٹنے کی کوشش کی تو ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔


رائٹرز کے مطابق نیٹو کو بھیجے گئے ایک روسی سفارتی مراسلے میں ماسکو نے اتحاد پر ’’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل‘‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے براہ راست مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔


روسی سفارتی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر نیٹو ممالک نے کالی ننگراڈ کو روس کے باقی حصے سے الگ کرنے کی کوئی کوشش کی تو روس اپنے علاقے کے دفاع کے لیے دستیاب تمام فوجی وسائل استعمال کرے گا، جن میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں۔


مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسی صورت حال میں روسی کارروائی میں نیٹو کے رکن ممالک کے فیصلہ سازی کے مراکز کو ابتدا ہی میں نشانہ بنانا بھی شامل ہوسکتا ہے۔


کالی ننگراڈ روس کا ایک انتہائی عسکری علاقہ ہے جو پولینڈ اور لیتھوانیا کے درمیان واقع ہے اور بحیرہ بالٹک سے متصل ہے۔ اس کا رقبہ امریکی ریاست کنیکٹی کٹ سے کچھ زیادہ ہے۔


روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے وزارت کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں نیٹو ممالک کی بعض اہم شخصیات کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر ’’روس مخالف سوچ‘‘ رکھنے اور ماسکو کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے کا الزام لگایا۔


انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کو حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے اور امید ہے کہ روس کی وارننگ ان لوگوں تک پہنچے گی جن کے لیے یہ پیغام دیا گیا ہے۔ زاخارووا نے مزید کہا کہ اگر یورپ نے روس پر حملہ کیا تو یہ بالکل مختلف نوعیت کی جنگ ہوگی اور ’’بہت مختصر جنگ‘‘ ہوگی۔


دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے روسی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور روس کو جوہری دھمکیاں دینا بند کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ایسی دھمکیاں نہ منا سب ہیں اور نہ ہی مددگار۔


نیٹو نے روس کے جواب میں کہا کہ اس کی کوئی بھی فوجی مشق یا سرگرمی روسی علاقے کے لیے خطر ہ نہیں ہے۔ اتحاد نے روس سے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرنے، اتحادی ممالک کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات سے گریز کرنے اور غیر ذمہ دارانہ جوہری بیانات بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔


مارک روٹے سے جب پوچھا گیا کہ کیا بالٹک ممالک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال ہونے کا خطرہ اب حقیقی ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جانتے ہیں کہ وہ نیٹو کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے، اس لیے وہ روسی بیان کو اس حد تک سنجیدہ نہیں لیتے۔


روس اور یورپ کے درمیان کشیدگی پہلے ہی 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد شدید ہے، تاہم رواں سال تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ یورپی حکومتوں نے ماسکو پر تخریب کاری اور آتش زنی سمیت مختلف کارروائیوں کے ذریعے یورپ میں ’’ہائبرڈ جنگ‘‘ تیز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔