سہیل آفریدی نے ذاتی انا اور کرسی بچانے کے لیےمذاکرات سبوتاژ کئے ،شرجیل میمن

وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز تھے اور فریقین حل کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے مذا کرات سبوتاژ کیے-
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو سیاسی گنجائش دینے اور مذاکرات کی حمایت کی، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز تھے اور فریقین حل کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی ضد ،اورانا کی وجہ سے مذاکرات سبوتاژ کیے، پیپلز پارٹی کی قیاد ت پر الزامات لگائے گئے تو ہر فورم پر جواب دیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اب تک پی ٹی آئی کے بیانات کا بلاوجہ جواب نہیں دیا اور نہ ہی تنقید کی، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو الزامات کا نشانہ بنانا افسو سناک ہے،پی ٹی آئی غیر سیاسی سوچ رکھنے والوں کو شٹ اپ کال دے،اگر پی ٹی آئی غلط قسم کے بہتان لگائے گی تو پیپلز پارٹی اپنی قیادت کا دفاع بھی کرے گی اور پی ٹی آئی کو آئینہ بھی دکھائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عمران خان کے سامنے اچھا بننے کی کوشش میں یہ سب کچھ کر رہے تھےس وقت خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، صو بے کے 7 میں سے 5 ڈویژن تقریباً دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں اور طالبانائزیشن کا ایک بڑا مرکز خیبر پختونخوا میں بنایا گیا ہے، جس کا نشانہ غریب اور بے گناہ پختون شہری بن رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر جاری ہے، پولیس اہلکاروں کو یونیفارم اتار کر گھومنا پڑتا ہے اور شام کے بعد صوبے کی صورتحال تشویشناک ہوجاتی ہے، جس میں خیبر پختونخوا حکومت کی نااہلی اور ناکامی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے بیانات میں طالبان سے مذاکرات اور ان کے دفاتر کھولنے کی بات کرتے رہے، جبکہ یہی طالبان معصوم بچوں کی جانیں لیتے رہے اور اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بناتے رہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کے دور میں خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردوں اور ان سےمنسلک مدارس کوسرکاری سطح پر فنڈنگ کی،پی ٹی آئی حکومت کے دور میں بنوں جیل بریک بھی ہوئی، جہاں دہشت گرد جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں آئے اور اپنے ساتھیوں کو جیل سے نکال کر لے گئے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں پیش آیا، جس میں معصوم بچوں کی شہادتیں ہوئیں، اس کے باوجود پی ٹی آئی کا طالبان کی حمایت کا بیانیہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کے موجودہ بیانات معاملات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی کو سیاسی گنجائش ملے اور اس کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات ہوں، لیکن اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صرف اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف بیان بازی کریں گے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر فورم پر پی ٹی آئی سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، دہشت گردی ہو یا دیگر معاملات، جس فورم پر بھی بحث کرنی ہو وہ تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کی سب سے بڑی متاثرہ جماعتوں میں سے ہےجبکہ ان کے بقول پی ٹی آئی دہشت گردی کی سب سے بڑی حما یتی رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے ماڈل کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ کوشش ہے کہ برادر ملک چین سے پاکستان اور بالخصوص سندھ میں سرمایہ کاری آئے اور چینی تعاون سے صوبے میں صنعت کاری کو فروغ دیا جائے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور چینی برقی گاڑیاں بڑی تعداد میں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ سندھ حکومت بھی سرکاری گاڑیوں کی نئی خریداری میں چینی برقی گاڑیوں کو ترجیح دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط موجود ہیں صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دور صدارت میں چین کے 11 دورے کیے جبکہ دو با رہ صدر بننے کےبعد بھی وہ چین کے 3 دورے کر چکے ہیں ہر بار صدر کی توجہ بھی پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر مرکوز رہی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ چین میں پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم سرمایہ کاری کانفرنس بھی ہو رہی ہے، جس سے متعلق مزید تفصیلات وقتاً فوقتاً عوام اور میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی سندھ حکومت کی توجہ ہمیشہ ترقی پر رہی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں تھر کوئلے کے ایک نئے مرحلے کا افتتاح کیا ہے اور تھرپارکر کا کوئلہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں پیدا ہونے والی بجلی کا 14 فیصد تھر کے کوئلے سے پیدا ہو رہا ہے، جبکہ اس سے قبل ملک کوئلہ درآمد کرتا تھا اور اس پر تقریباً 1.6 ارب ڈالر خرچ ہوتے تھے۔ سندھ حکومت نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت تھر کے کوئلے کو نکالنے کا منصوبہ اپنے ذمے لیا اور اس پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں





