طالبان حکومت کا دہشتگردوں کو سفری، سیکیورٹی اور تربیتی سہولیات فراہم کرنے کا انکشاف،خط وائرل

لیک خط نے طالبان حکومت کا دہشتگردوں کو سفری، سیکیورٹی اور تربیتی سہولیات فراہم کرنے کا بھانڈا پھوڑ دیا-
افغانستان سے سرگرمِ عمل دہشت گرد نیٹ ورکس کو لاجسٹک، سیکیورٹی، انٹیلی جنس، تربیت اور دیگر اقسام کی معاونت کی فراہمی کے حوا لے سے نئے اور سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ یہ خدشات ایک ایسی لیک شدہ دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں جس میں مبینہ طور پر طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات شامل ہیں۔
سامنے آنے والے خط کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ نے شیخ طلحہ العراقی، شیخ مولوی عبداللہ محمود، شیخ عبدالرحمان، شیخ ابو اخلاص ابو عمر المصری، شیخ عبدالحق ترکستانی، شیخ مولوی عبدالغفار نقشبندی اور شیخ مولوی محمد الحسن الہاشمی سمیت افراد کے لیے خفیہ فضائی سفر، انٹیلی جنس تعاون، سکیورٹی اور تربیت کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خط میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے دھماکا خیز مواد کی تیاری اور ڈرونز کی تیاری کے لیے ماہر افراد کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کو صرف پناہ ہی نہیں دی جا رہی بلکہ ان کی نقل و حرکت، تربیت اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے،دستاویز میں ان اقدامات کو افغانستان سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرے میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
خط میں بیان کردہ مبینہ سرگرمیاں ان وعدوں اور ذمہ داریوں کے بارے میں وسیع تر سوالات کو جنم دیتی ہیں جو افغانستان کے عملی حکام نے اس حوالے سے کر رکھے ہیں کہ دہشت گرد گروہوں کو دیگر ممالک کو دھمکانے کے لیے افغان سرزمین، بنیادی ڈھانچے یا وسائل کا استعمال کرنے سے روکا جائےافغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر سنگین مضمرات کا حامل ہے دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت، انہیں تربیت اور لاجسٹک معاونت کی فراہمی، اور بہتر تکنیکی صلاحیتوں کا حصول سرحد پار سیکیورٹی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے اور پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ الزامات دہشت گردوں کی مالی معاونت، بھرتی، نقل و حرکت، تربیت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک ان کی رسائی کے معاملے پر مسلسل بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں-





