صبر و شکر کی برکتیں،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے تاکہ ہم ہر ایک نعمت کا شکر ادا کریں گے تو ہماری نعمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ جب ہم نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں تو اس میں اللّٰہ تعالیٰ برکت بڑھا دیتے ہیں اور جب بھی کوئی مصیبت آئے تو صبر کرنے سے بھی ہمیں اللّٰہ تعالیٰ اجر عطا کرتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہی انسان کا شکر گزار ہونا ہے ۔ قرآن مجید میں "اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
تم کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔"
یا اللہ میں آپ کی کسی نعمتوں کو نہیں جھٹلاتی۔
کائنات پر غور وفکر کریں اور ہر ایک نعمت کا شکر ادا کریں۔ سورج طلوع ہوتے ہی دعا پڑھیں، سورج روشنی دیتا ہے اور ہمیں قدرتی بہت سارے فائدے ہیں، مفت میں ہمیں وٹامن ڈی ملتی ہے اور چاند اور ستارے رات کو روشنی دیتے ہیں جس سے اندھیرا دور ہوتا ہے اور راستے نظر آتے ہیں۔ سمندر سے ہمیں ٹھنڈی ہوائیں ملتی ہیں اور ہمیں دریا کنارے پکنک منانے آتے ہیں جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، اس کے علاوہ سمندر سے ہمیں سیپ بھی حاصل ہوتی ہے۔ مختلف غذائیں،مچھلیاں کھانے کے لیے ملتی ہیں اور مچھلیوں سے کاروبار کیا جاتا ہے جو بازار میں فروخت کی جاتی ہیں۔ درختوں سے ہمیں بہت سارے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ جیسے کہ درخت کے سائے تلے ٹھنڈی ہوائیں ملتی ہیں اورمختلف رنگ برنگے پھل، پھولوں سے خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ جنگلات سے ہمیں ماحولیاتی نظام بہتر کیا جاتا ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے چاہیے تاکہ ہمیں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے بدلتے موسم کی تبدیلی کے لیے ہر فرد کو ایک پودا ضرور لگانا چاہیے۔
ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی سنت ہے۔ شجرکاری کی مہم چلائی جانی چاہیے۔
مختلف اناج کھیت سے ہمیں حاصل ہوتے ہیں جن میں گیہوں چاول دالیں مسور مونگ، چنے، پھلی چاول اور مختلف رنگوں کے پھل حاصل ہوتے ہیں جن میں آم، انگور، کیلے،انناس، ناشپاتی، کینو، موسمبی، سیب، امرود، فالسے، جامن، وغیرہ مختلف سبزیاں سرسوں کا ساگ اور پالک بیگن آلو، توری، کدو، مولی، گاجر، چقندر، شلجم، ککڑی،ٹنڈے، اروی، وغیرہ
نعمتوں کا شکر ادا تو ہم پوری زندگی بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ نعمتیں بے شمار ہیں۔ ہمیں صبر و شکر ادا کرنا چاہیے تاکہ ہم شکر گزار بن سکیں: مصیبت کے وقت صبر کرنے سے بہت زیادہ اجر ملتا ہے
مزید پڑھیں





