زہر کی ایک عجیب خصلت ہے، یہ ہمیشہ موت کی نوید بن کر نہیں آتا۔ کبھی یہ خاموشی سے رگوں میں اتر جاتا ہے، چہرے پر مسکراہٹ باقی رہتی ہے، انسان چلتا پھرتا رہتا ہے، مگر اندر سے زندگی کا ذائقہ چھین لیا جاتا ہے۔ رویوں کا زہر بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ یہ نظر نہیں آتا، مگر دلوں کو زخمی، رشتوں کو کھوکھلا اور معاشرے کو اندر سے بیمار کر دیتا ہے۔ہم نے ترقی تو بہت کر لی، لیکن شاید انسان بننے کی تربیت کہیں راستے میں چھوڑ آئے ہیں۔ آج ہمارے پاس بات کرنے کے وسیلے پہلے سے زیادہ ہیں، مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کا ظرف کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر بات کا جواب دینا چاہتے ہیں، مگر ہر بات سننا نہیں چاہتے۔ ہمیں اپنی رائے عزیز ہے،دوسروں کا احساس نہیں۔ اختلاف ہو تو دلیل کے بجائے آواز بلند ہوتی ہے، اور غصہ آئے تو الفاظ تہذیب کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے رویے کا یہ زہر محسوس بھی نہیں ہوتا۔ہم کسی کی محفل میں اس کی عدم موجودگی میں اس کا تمسخر اڑاتے ہیں، پھر سامنے آ کر مسکرا دیتے ہیں۔ کسی کی کمزوری جان کر اسے بحث میں ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ کسی کے اچھے وقت پر مبارک باد دیتے ہوئے دل میں حسد پال لیتے ہیں اور کسی کی مشکل گھڑی میں ہمدردی کے بجائے نصیحتوں کا انبار لگا دیتے ہیں۔ ہم نے انسان کو سمجھنے کے بجائے اسے جانچنے کی عادت بنا لی ہے۔کوئی خاموش رہے تو اسے مغرور کہہ دیتے ہیں، کوئی زیادہ بولے تو نادان سمجھ لیتے ہیں، کوئی اپنا درد چھپا لے تو کہتے ہیں اسے کوئی مسئلہ ہی نہیں، اور کوئی اپنے دکھ کا اظہار کر دے تو اسے کمزور جاننے لگتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم چہروں کو پڑھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر دلوں کو سمجھنے کی زحمت نہیں کرتے۔گھر اس زہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ والدین کا ایک سخت جملہ بچے کے دل میں برسوں تک ٹھہرا رہ سکتا ہے۔ مسلسل طنز کسی کے اعتماد کو توڑ سکتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان بار بار کی تلخی محبت کو خاموش کر دیتی ہے۔ بہن بھائیوں کے بیچ انا کی معمولی سی چنگاری برسوں کی قربت کو راکھ بنا سکتی ہے۔ رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے، پہلے لہجے بدلتے ہیں، پھر گفتگو کم ہوتی ہے، پھر شکایتیں بڑھتی ہیں، پھرخاموشی گھر کر لیتی ہے، اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جسے وہ اپنا سمجھتا تھا، وہ دل سے بہت دور جا چکا ہے۔ہم دوسروں سے محبت چاہتے ہیں، احترام چاہتے ہیں، برداشت چاہتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود بھی دوسروں کو وہی سب دے رہے ہیں؟سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ اختلاف اب مکالمہ نہیں رہا، محاذ آرائی بن گیا ہے۔ ایک معمولی اختلاف پر طنز، تمسخر اور ذاتی حملہ ہماری گفتگو کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ الفاظ اسکرین پر لکھے ضرور جاتے ہیں، مگر ان کا اثر کسی انسان کے دل پر ہوتا ہے۔معاشرہ قانون سے نہیں، رویوں سے خوبصورت بنتا ہے۔ایک نرم لہجہ، ایک لمحے کی برداشت، کسی کی بات مکمل سن لینے کا حوصلہ، غلطی پر معاف کر دینے کی عادت اور کسی پریشان حال کے لیے چند مخلص الفاظ، یہ سب بظاہر معمولی باتیں ہیں، مگر انہی معمولی باتوں سے انسانیت کی عظیم عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ہم دنیا کو بدلنے کی بات بہت کرتے ہیں۔ کبھی اپنے لہجے کو بدلنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ کیونکہ ممکن ہے ہمارے ایک جملے سے کسی کا دن خراب ہو رہا ہو، کسی کا اعتماد ٹوٹ رہا ہو، یا کوئی پہلے ہی اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہو۔اس لیے اگلی بار غصے میں کوئی لفظ کہنے سے پہلے ایک لمحے کو رک جائیے۔ سوچیے، یہ لفظ صرف میرے منہ سے نکلے گا یا کسی کے دل میں بھی اتر جائے گا؟زخم دکھائی نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زخم لگا نہیں۔اور شاید ہمارے معاشرے کو آج دوا سے زیادہ اچھے رویوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زہر بانٹنے والے ہاتھ بہت ہیں، مگر مرہم رکھنے والے ہاتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں






