یوسفزئیوں کا عروج: کابل سے خیبر پختونخوا کے قلب تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
ملک سلیمان شاہ کے مرزا الغ بیگ کے ساتھ اتحاد سے ملک احمد خان بابا کی قیادت تک

جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری کے ماہر دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن
یوسفزئی پختونوں کی تاریخ محض ایک قبیلے کے ایک وادی سے دوسری وادی کی طرف ہجرت کی تاریخ نہیں۔ یہ ہجرت، سیاسی اتحاد، وفاداریوں کی تبدیلی، بقا، عسکری جدوجہد اور ایک ایسی طاقتور قبائلی قیادت کے ابھرنے کی داستان ہے جس نے بالآخر موجودہ خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں میں اپنا مضبوط مقام قائم کیا۔
اس قابلِ ذکر تاریخ کے مرکز میں جن شخصیات کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، ان میں ملک سلیمان شاہ اور ان کے کم عمر بھتیجے ملک احمد خان یوسفزئی شامل ہیں، جنہیں بعد میں ملک احمد بابا کے نام سے یاد کیا گیا۔
یہ داستان کابل کے خطے سے شروع ہوتی ہے، جہاں تیموری شہزادے مرزا الغ بیگ کا دور تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یوسفزئی اور ان سے منسلک خاخی قبائل کابل اور اس کے گردونواح میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
جب الغ بیگ مشکل حالات میں کابل پہنچے تو روایت کے مطابق ملک سلیمان شاہ ان کے اہم ترین حامیوں میں شامل ہوئے۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ سلیمان شاہ نے انہیں عسکری مدد فراہم کی اور اس نوجوان تیموری شہزادے کے ساتھ تقریباً اپنے خاندان کے ایک فرد جیسا سلوک کیا۔
سلیمان شاہ کی حمایت محض علامتی نہیں تھی۔ یوسفزئی قیادت کے پاس قبائلی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ قابلِ ذکر عسکری قوت بھی موجود تھی، اور ان کی مدد نے الغ بیگ کو کابل میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک علمی تحقیق میں سلیمان شاہ کو الغ بیگ کے ابتدائی دورِ حکومت کی ایک نہایت طاقتور شخصیت قرار دیا گیا ہے، جن کا اثر و اختیار بعض اوقات ایک عام قبائلی سردار کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا تھا۔
لیکن یوسفزئیوں کی یہی بڑھتی ہوئی طاقت بالآخر ایک نئے سیاسی مسئلے کا سبب بن گئی۔
جب اتحاد خطرہ بن گیا
جوں جوں الغ بیگ کی طاقت بڑھتی گئی، تیموری حکمران اور یوسفزئی قیادت کے درمیان طاقت کا توازن بھی تبدیل ہونے لگا۔
روایتی تاریخی بیانات کے مطابق یوسفزئی ملکان نے کابل میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا۔ ان کی آزاد حیثیت اور عسکری طاقت حکمران کے لیے بتدریج تشویش کا باعث بننے لگی۔ بالآخر الغ بیگ اور یوسفزئی قیادت کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
روایتی بیان کے مطابق الغ بیگ نے یوسفزئی عمائدین کو ایک شاہی دعوت میں شرکت کی دعوت دی، لیکن یہ اجتماع بعد ازاں ایک خونریز جال میں تبدیل ہوگیا۔
اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی روایات موجود ہیں۔ بعض روایتی بیانات میں تقریباً 700 یوسفزئی عمائدین کا ذکر ملتا ہے، جبکہ دیگر روایات مختلف تعداد بیان کرتی ہیں۔ مغل افغان تعلقات پر ایک علمی تحقیق میں ملک سلیمان شاہ سمیت بڑی تعداد میں یوسفزئی اور دیگر افغان ملکان کے قتل کا ذکر ملتا ہے، تاہم ایک اور علمی تحقیق نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس بڑے پیمانے کے قتلِ عام اور اس کی تمام تفصیلات کی معاصر ذرائع سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
تاہم ان روایات میں ایک بنیادی بات مشترک ہے: کابل میں یوسفزئی قیادت کو ایک تباہ کن دھچکا لگا اور انہیں ہجرت اور نئی سیاسی جدوجہد کے ایک دور میں داخل ہونا پڑا۔
اور اس المیے کے مرکز میں ایک نوجوان موجود تھا۔
ملک احمد خان — کم عمر زندہ بچ جانے والا رہنما
ملک احمد خان، ملک سلیمان شاہ کے بھتیجے اور ملک سلطان شاہ کے فرزند تھے۔ ان کی صحیح عمر اور سالِ پیدائش کے بارے میں روایات مختلف ہیں، تاہم ان باتوں پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس بحران کے وقت وہ بہت کم عمر تھے۔
روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک روایت کے مطابق ملک سلیمان شاہ نے نوجوان احمد کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور انہیں مستقبل میں یوسفزئیوں کی قیادت کرنے کے قابل سمجھتے تھے۔ اسی روایت کے مطابق جب یوسفزئی عمائدین کو گرفتار کیا گیا تو سلیمان شاہ نے احمد کی جان بچانے کی درخواست بھی کی تھی۔
یہ واقعہ اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ ملک احمد کا زندہ بچ جانا اس بات کا باعث بنا کہ پرانی یوسفزئی قیادت کی تباہی کے باوجود خود قبیلہ ختم نہ ہوا۔
اس کے بجائے قیادت ایک نئی نسل کو منتقل ہوگئی۔
نوجوان ملک احمد نے کوئی سلطنت نہیں بلکہ ایک منتشر اور شدید بحران کا شکار قبائلی اتحاد ورثے میں حاصل کیا۔
انہیں اپنے لوگوں کو دوبارہ متحد کرنا تھا، نئی سرزمین تلاش کرنی تھی اور اپنے قبیلے کا تحفظ کرنا تھا۔
کابل سے وادیٔ پشاور تک
اس کے بعد یوسفزئی کابل کے خطے سے مشرق کی جانب وادیٔ پشاور کی طرف منتقل ہوئے۔
ان کی آمد نے انہیں ان قبائل کے ساتھ مقابلے میں لا کھڑا کیا جو پہلے ہی اس خطے میں آباد تھے، جن میں خاص طور پر دلازک نمایاں تھے۔
تاریخی روایات کے مطابق یوسفزئیوں کو دوآبہ کے علاقے میں زمین دی گئی، جو دریائے کابل اور دریائے سوات کے درمیان واقع ایک زرخیز خطہ تھا۔ یہاں سے ان کے علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی عزائم میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔
یہ ہجرت کسی ایک دن پورے قبیلے کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عمل تھا، جس میں مختلف گروہ، خاندان اور اتحادی قبائل مختلف راستوں سے سفر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔
قبائلی تاریخ کے مطالعے میں یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ بعد کی روایات بعض اوقات کئی دہائیوں پر محیط ہجرت، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں کو ایک ہی ڈرامائی واقعے میں سمیٹ دیتی ہیں۔
یوسفزئی بتدریج وادیٔ پشاور اور اس کے گردونواح میں مضبوط ہوئے۔ وقت کے ساتھ ان کا پھیلاؤ ہشت نگر، مردان، صوابی، ملاکنڈ، باجوڑ اور سوات تک ہوا۔
ملک احمد کی زندگی پر ہونے والی علمی تحقیقات میں ہشت نگر اور سوات کو یوسفزئی توسیع کے اہم مراکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ہشت نگر اور سوات کی جدوجہد
ملک احمد کی سب سے بڑی کامیابی صرف کابل کے سانحے سے زندہ بچ جانا نہیں تھی۔
ان کی اصل کامیابی یوسفزئی سیاسی اور عسکری طاقت کو دوبارہ منظم کرنا تھی۔
یوسفزئیوں کا مقابلہ ان گروہوں سے ہوا جو وادیٔ پشاور اور اس کے گردونواح کے مختلف علاقوں میں پہلے سے آباد تھے۔ ان کی دلازک قبائل کے ساتھ کشمکش خاص طور پر اہم بن گئی۔
وقت کے ساتھ یوسفزئی اور ان کے اتحادی اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو وسعت دیتے گئے۔ ہشت نگر ان کے اہم مراکز میں شامل ہوا، جبکہ ان کی توجہ رفتہ رفتہ سوات کی زرخیز وادیوں کی طرف بھی مبذول ہوئی۔
Ancient Pakistan میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سوات کی طرف یوسفزئی پیش قدمی کسی ایک جنگ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک طویل عمل تھا۔ تحقیق کے مطابق سوات کے مختلف حصوں پر قبضے کا عمل کئی برسوں تک جاری رہا اور تقریباً سترہ سال تک مختلف مراحل میں آگے بڑھا۔
یہ ملک احمد کے چیلنج کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ صرف ایک ہجرت کرنے والے قبیلے کی قیادت نہیں کر رہے تھے۔
وہ ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہے تھے۔
ملک احمد بابا اور یوسفزئی قبائلی اتحاد
ملک احمد بتدریج اس مرکزی شخصیت کے طور پر ابھرے جس کے گرد یوسفزئی سیاسی طاقت کو دوبارہ منظم کیا گیا۔
روایتی تاریخ میں انہیں ملک احمد بابا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جو مختلف یوسفزئی گروہوں اور ان کے اتحادیوں کو متحد کرنے والے رہنما تھے۔
نئے علاقوں کے حصول کے ساتھ ملک احمد کی سیاسی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔ قیادت کا نظام قبائلی ملکان، باہمی اتحادوں اور علاقائی تقسیم کے گرد منظم ہوتا گیا۔
اس طرح خطے میں تشکیل پانے والا یوسفزئی سیاسی نظام کابل کی مرکزی بادشاہت سے مختلف تھا۔ اس میں قبائلی قیادت، باہمی مشاورت، اتحاد اور عسکری قوت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔.
بالآخر اسی نظام نے موجودہ خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں میں یوسفزئیوں کی ایک مضبوط موجودگی قائم کی۔.
ایک بے گھر قبیلے سے علاقائی طاقت تک
یہ تبدیلی یقیناً غیر معمولی تھی۔
ایک ایسی برادری جس نے کابل کے گردونواح میں اپنی روایتی قیادت کے بڑے حصے کو کھو دیا تھا، بالآخر وادیٔ پشاور، ملاکنڈ کے علاقے اور سوات میں اہم ترین پشتون قبائلی گروہوں میں شامل ہوگئی۔
یوسفزئی آبادکاری سے وابستہ جغرافیائی پھیلاؤ میں موجودہ مردان، صوابی، ملاکنڈ، سوات اور دیر و باجوڑ کے بعض علاقے شامل رہے ہیں، اگرچہ ہر علاقے کی آبادیاتی اور سیاسی تاریخ ایک سادہ قبائلی نقشے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
بعد کی صدیوں میں یوسفزئی خطے کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے اہم کردار بن گئے۔
ان کی طاقت اس قدر اہم تھی کہ کابل میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد بابر نے بھی یوسفزئیوں کو ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج سمجھا۔ خطے میں اس کی فوجی مہمات اور بعد میں یوسفزئی قیادت کے ساتھ ہونے والے انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سولہویں صدی کے آغاز تک یوسفزئی ایک اہم علاقائی قوت بن چکے تھے۔
یوں نسبتاً مختصر تاریخی عرصے میں یوسفزئی کابل کے گردونواح کے مہاجر اور بے گھر سیاسی عناصر سے تبدیل ہو کر برصغیر کے شمال مغربی خطے کی ایک بڑی علاقائی طاقت بن گئے۔
ملک سلیمان شاہ کی میراث
یوسفزئی تاریخ کے مرکز میں ایک دلچسپ تاریخی پہلو موجود ہے۔
ملک سلیمان شاہ نے تیموری شہزادے الغ بیگ کو کابل میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد دی۔ ان کی حمایت نے اس حکمران کو مضبوط بنایا، جو بالآخر اتنی طاقت حاصل کر گیا کہ خود یوسفزئیوں کو ایک سیاسی خطرے کے طور پر دیکھنے لگا۔
لیکن پرانی قیادت کی تباہی یوسفزئی قوم کو ختم نہ کرسکی۔
اس کے بجائے اس سانحے نے ایک نئی نسل کی قیادت کو جنم دیا۔
ملک سلیمان شاہ کی تاریخی میراث شاید صرف ان کے اپنے سیاسی اثر و رسوخ تک محدود نہیں بلکہ اس نوجوان بھتیجے سے بھی جڑی ہوئی ہے جس کی زندگی بچانے میں ان کا کردار بیان کیا جاتا ہے۔
ملک احمد زندہ رہے — اور ان کے ساتھ یوسفزئی سیاسی عزم بھی زندہ رہا۔
وہ نوجوان رہنما جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
ملک احمد کی داستان اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ قیادت کی ذمہ داری انہیں ایک انتہائی مشکل وقت میں ملی۔
انہوں نے ایک ایسے قبیلے کی قیادت سنبھالی جو سیاسی دھوکے، عمائدین کے قتل اور بے دخلی سے شدید متاثر ہوچکا تھا۔
لیکن یوسفزئی تاریخ میں گم نہیں ہوئے۔
انہوں نے خود کو دوبارہ منظم کیا۔
وہ وادیٔ پشاور میں آئے، دوآبہ اور ہشت نگر میں آباد ہوئے، زمین اور اقتدار کے لیے جدوجہد کی، ملاکنڈ اور سوات کی طرف پھیلے اور رفتہ رفتہ ایسا سیاسی اور آبادیاتی وجود قائم کیا جو آج بھی خیبر پختونخوا کی تاریخ اور معاشرت میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔
اس لیے تاریخی ملک احمد صرف ایک قبائلی سردار نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑی علامت ہیں۔
وہ اس بات کی مثال ہیں کہ ایک بے گھر اور منتشر برادری نئی قیادت کے تحت خود کو کس طرح دوبارہ منظم کرسکتی ہے۔
آج کے یوسفزئی
ملک سلیمان شاہ اور ملک احمد خان کے دور کے واقعات کے کئی صدیوں بعد بھی یوسفزئی شناخت خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔
مردان، صوابی، ملاکنڈ اور سوات ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں تاریخی طور پر یوسفزئی آبادی اور اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے۔ اس کے علاوہ یوسفزئی خاندان اور برادریاں ان روایتی علاقوں سے باہر پاکستان کے مختلف حصوں میں بھی آباد ہیں۔
تاہم موجودہ دور میں یوسفزئیوں کے پھیلاؤ کو قرونِ وسطیٰ کی قبائلی سرحدوں کا محض تسلسل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ کئی صدیوں کے دوران آبادی کی نقل و حرکت، شادیاں، شہری آبادکاری، انتظامی تبدیلیاں اور اندرونِ ملک ہجرت نے پاکستان کے آبادیاتی نقشے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔
اس کے باوجود ملک احمد کے دور میں رکھی جانے والی تاریخی بنیاد آج بھی اس خطے کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
خلاصہ
یوسفزئیوں کا عروج بالآخر بقا اور تبدیلی کی داستان ہے۔
ملک سلیمان شاہ نے ایک مشکل دور میں ایک تیموری شہزادے کو کابل میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد دی۔ وقت کے ساتھ سیاسی مفادات تبدیل ہوئے، تعلقات خراب ہوئے اور یوسفزئی قیادت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچا۔ لیکن اسی سانحے سے ایک نوجوان رہنما ابھرا — ملک احمد خان — جس نے اپنے لوگوں کو دوبارہ منظم کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
کابل سے یوسفزئی وادیٔ پشاور کی طرف آئے۔ دوآبہ اور ہشت نگر سے انہوں نے مردان، صوابی، ملاکنڈ اور سوات کی طرف اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ہجرت، اتحاد، سیاسی جدوجہد اور جنگوں کے کئی مراحل سے گزر کر انہوں نے ایک بے گھر قبائلی آبادی سے خطے کی ایک بڑی تاریخی پشتون قوت کی شکل اختیار کی۔
یہ داستان صرف ایک قتلِ عام یا ایک ہجرت کی داستان نہیں۔
یہ اس بات کی داستان ہے کہ ایک نسل کے زوال کے بعد دوسری نسل کس طرح نئے عزم اور نئی قیادت کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔
اور اس تاریخی تبدیلی کے مرکز میں وہ نوجوان ملک احمد خان یوسفزئی کھڑے نظر آتے ہیں، جنہیں تاریخ ملک احمد بابا کے نام سے یاد کرتی ہے۔
مزید پڑھیں





