سعودی عرب پر حوثیوں کا گھناؤنا حملہ انتہائی تشویش اور قابل مذمت ہے،ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے مکہ مکرمہ پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے سعودی عرب کے ساتھ ہے، حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی، حملے کے تناظر میں خطے کی ابھرتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ترجمان سجاد حیدر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناؤنا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف نے مقامات مقدسہ پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور حوثی حملوں کے تناظر میں خطے میں ابھرتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، مکہ دفاعی معاہدے پر تینوں ممالک نے پریس ریلیزجاری کیں، مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، پا کستا ن ڈائیلاگ اور سفارتکاری کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کے لئے 47 برس بعد امریکا ایران کو ایک میز پر بٹھانا بڑی کامیابی تھی ، پاکستان سمجھتا ہے کہ مفاہمتی یاد داشت پر عمل کرنے سے امن اور استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔
ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاک نیوی مشق سی اسپارک 26 کے دوران پاکستان کے خصو صی اقتصادی زون میں جارحانہ نقل و حرکت کرکے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی، اس واقعے پر بھار ت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا، آج نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ میں احتجاج کر یں گے بھارتی اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھنےکا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے ، بھارت غیر ذمہ دارانہ اقدامات سےگریز کرے جوعدم استحکا م کا باعث بن سکتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ جاری تعاون اور دو طرفہ اشتراک کو مزید تقویت دیتا ہے ، مکہ معاہدے کے سیکرٹری جنرل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہواامن و استحکام کا فروغ پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے، قطر اور ترکی نے افغانستان کے ساتھ ثالثی کیلئے مثبت کردار ادا کیا، دوست ممالک کی کوششوں کے باوجود افغان ردعمل منفی رہا، پاکستان افغا نستان سے دہشت گردی نہ ہونے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہیں، ہمارا مقصد خطے میں امن و استحکام ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون کو سیاحت تک بڑھانے پر غور ہونا چاہیے، تینوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون پر اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، اسلام آباد میں شنگھائی تعاون (ایس سی اواجلاس) میں بھارت کی نمائندگی ناظم الامور نے کی تھی، امید ہے اگلے سال اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بھی بھارت کی نمائندگی ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کی خبریں غلط ہیں، بھارت نے واہگہ بارڈر بند کیا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا بھی مشکل بنا رکھا ہے، رواں برس پاکستان نے صرف ویساکھی کے لیے 2800 سے زیادہ ویزے جاری کیے، کرتار پور راہداری پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے بند کر رکھی ہے، پاکستان کرتارپور راہداری سے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے مکمل تیار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے مزید بتایا کہ لبنانی وزیر خارجہ احمد الحجار کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیااس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مفاہمی یاد داشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت سزا یافتہ شہری اپنی باقی ماندہ سزا اپنے وطن میں پوری کر سکیں گے۔
پاکستان اور چین کے درمیان گزشتہ روز 16 ستمبر کو باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے پر بھارتی اعتراضات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوا می طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا باقی ہے۔
سجاد حیدر نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کی طرح فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے، پاکستان 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطین کا حامی ہے، لبنان اور شام کو بھی اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے، اکھنڈ بھارت کی طرح گریٹر اسرائیل والی توسیع پسندانہ پالیسی اور نظرئیے پر عمل کیا جا رہا ہے۔





