اسلامی سال کا چوتھا مہینہ دستک دے چکا ہے۔ ماہِ ربیع الثانی، جسے ربیع الآخر بھی کہتے ہیں۔ یہ محض کیلنڈر کا ایک ورق نہیں، یہ وقت کی روانی کی ایک اور صدا ہے۔ ایک خاموش منادی جو ہر بار یہی پوچھتی ہے کہ اے ابنِ آدم! گزرے دنوں کی گٹھڑی میں تم نے کیا رکھا؟ اپنے کردار کو کتنا سنوارا؟ اور اپنے خالق سے اپنے تعلق کی ڈور کو کتنا مضبوط کیا؟
ہم نئے مہینے، سال کا استقبال ہمیشہ نئی امیدوں سے کرتے ہیں۔ دل میں نئی زندگی کے نقشے بنتے ہیں، کامیابیوں کے محل تعمیر ہوتے ہیں اور لبوں پر دعائیں آتی ہیں کہ یا رب! مشکلات ٹل جائیں مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حالات خود بخود نہیں بدلتے۔ تبدیلی کا پہلا بیج ہمارے اپنے اندر بونا پڑتا ہے۔ ہم دنیا سے شکوہ کرتے ہیں، تقدیر سے گلہ کرتے ہیں مگر اپنی نیت کے آئینے میں جھانکنے سے ڈرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ زندگی خواہشوں سے نہیں، عمل سے بدلتی ہے۔ اور عمل کے لیے نیت کی پاکیزگی اور مسلسل جدوجہد شرط ہے۔ ربیع الثانی ہمیں اسی محاسبہِ ذات کی دعوت دیتا ہے۔
انسان کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ وقت کی قیمت تب سمجھتا ہے جب وقت اس کی مٹھی سے ریت کی طرح نکل چکا ہوتا ہے۔ بچپن جوانی کا منتظر، جوانی کامیابی کی متلاشی اور بڑھاپا گزرے لمحوں کا اسیر۔ ہم حال کو مستقبل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، اور جب مستقبل آتا ہے تو ماضی کے کھنڈرات پر کھڑے ہو کر آہیں بھرتے ہیں۔
اللہ رب العزت نے اسی حقیقت پر زمانے کی قسم کھائی:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
"زمانے کی قسم! بےشک انسان خسارے میں ہے۔"
لیکن فوراً بعد نجات کی راہ بھی متعین کر دی: "سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر کی وصیت کی۔"
ربیع الثانی کا چاند ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ بتاتا ہے کہ ہمارے کتنے گھنٹے لغو گوئی، عیب جوئی، حسد اور بے مقصد بحث میں بہہ گئے؟ ہم اسکرینوں پر نظریں گاڑھے دوسروں کی زندگیاں ٹٹولتے رہے اور اپنے دل کی ویرانی سے بے خبر رہے۔ ہم نے معلومات کا انبار لگا لیا مگر حکمت کا ایک قطرہ بھی نہ پیا۔
عبادت اگر صرف سجدوں اور تسبیحوں کا نام ہوتی تو بات آسان تھی مگر عبادت تو زندگی کی تعمیرِ نو ہے۔ وہ عاجزی جو جاءِ نماز پر اختیار کی، کیا وہ گھر کی دہلیز پار کر کے بھی سلامت رہتی ہے؟ وہ زبان جو ذکر میں تر رہتی ہے، کیا وہ غیبت سے بھی محفوظ رہتی ہے؟
اگر ہمارا سجدہ ہمیں متکبر سے متواضع نہ بنائے، ہماری نماز ہمیں ظالم سے عادل نہ بنائے، اور ہمارا روزہ ہمیں خود غرض سے ایثار پسند نہ بنائے، تو سمجھ لیجیے کہ عبادت کا نور ہم تک پہنچا ہی نہیں۔
سرکارِ دو عالم ﷺ کی سیرت اسی کا نام ہے۔ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن کا عملی تفسیر تھا۔ رحم، عدل، عفو و درگزر، سچائی اور حسنِ سلوک، یہی دین کا حسن ہے۔ ربیع الثانی میں ہمیں اپنی عبادت کے ساتھ اپنی معاملہ فہمی کو بھی تولنا ہے۔
عجب دور ہے۔ فاصلے سمٹ گئے اور دل دور ہو گئے۔ رابطوں کی بہتات اور تعلقوں کی قلت۔ ایک ہی چھت تلے والدین اور اولاد اجنبی بن گئے۔ ہم نے محبت کو اسٹیٹس تک، خیریت کو میسج تک، اور تعزیت کو اسٹیکر تک محدود کر دیا۔
ربیع الثانی یاد دلاتا ہے کہ رشتے سانس مانگتے ہیں۔ کسی ناراض کو منا لینا، کسی بزرگ کی بات صبر سے سن لینا، کسی بیمار کا حال دریافت کر لینا، کسی غم زدہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ دینا۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل ہی بڑے رشتوں کی بنیاد ہیں۔ یاد رکھیے! زبان سے نکلا لفظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر، کبھی واپس نہیں آتے۔ ایک نرم لفظ مرہم بن جاتا ہے اور ایک کڑوا لفظ زخم۔
ہم جب معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہیں تو انگلیاں ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ نظام، حکومت، ادارے۔ بے شک اصلاحِ نظام ضروری ہے مگر معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے اگر ہر اینٹ اپنی جگہ سیدھی لگ جائے تو دیوار خود بخود مضبوط ہو جائے گی۔
اسی طرح استاد کی دیانت، تاجر کا انصاف، ڈاکٹر کا رحم، افسر کی امانت، والد کی تربیت اور نوجوان کی بیداری، یہی وہ اینٹیں ہیں۔ تبدیلی کسی انقلاب کی محتاج نہیں۔ کبھی ایک پودا لگا دینا، کبھی کسی بچے کو حرف پڑھا دینا، کبھی کسی بزرگ کا سہارا بن جانا، کبھی حق کے لیے آواز اٹھا دینا،یہی چھوٹے قدم بڑی تاریخ لکھتے ہیں۔
آئیے! اس ربیع الثانی کو ہم محض تاریخ کی تبدیلی نہ بنائیں، اسے دلوں کی تبدیلی کا مہینہ بنا لیں۔ عہد کریں کہ ہم اپنی نمازوں کو وقت دیں گے، قرآن سے دوستی بڑھائیں گے، والدین کے قدموں میں جنت تلاش کریں گے، رشتوں میں مٹھاس گھولیں گے، غیبت اور بہتان سے دامن بچائیں گے، اور کسی کی زندگی میں آسانی کا سبب بنیں گے۔
کیونکہ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔
اے اللّٰہ! ہمیں لمحوں کی قدر عطا فرما۔ ہمارے اوقات کو عبادت، ہمارے دلوں کو اخلاص، ہماری زبانوں کو سچائی، اور ہمارے کردار کو حسنِ اخلاق سے مزین فرما۔ ہمیں اپنے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
مزید پڑھیں






