Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پی ٹی آئی کیساتھ مذاکر ات اس وقت خراب ہوئے جب معاملہ دہشتگردی کiخلاف اقدامات پر پہنچا,محسن نقوی

Naqvi challenges PTI to provide list of its 25 'slain' workers | Baaghi TV

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا تاہم مذاکر ات اس وقت خراب ہوئے جب معاملہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر پہنچا,ہم نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی ہماری طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا ضرور کہا تھا-


لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاکہ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے، کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے,لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے اور لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات کا سلسلہ ختم سمجھا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کسی بھی شکل میں ہو، قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہوگی, اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، خلاف ورزی پر ہر ممکن قانونی کارروائی کریں گے۔ لانگ مارچ میں شریک افراد کو توہین عدالت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے آنے والی ٹیم سنجیدہ اور معقول تھی، وہ اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ مذاکراتی عمل کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں آنا چاہیے تھا۔ سہیل آفریدی یا ان کے نمائندے کو مذاکرات میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ کے پی نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نہیں مانتے، بعد میں فائنل معاہدے میں بھی تبدیلیاں کردیں اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ کے پی حکومت سب کچھ ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات کرتے ہی نہیں۔ اگر سہیل آفریدی نے فیصلے کرنے تھے تو وہ خود آجاتے, اللہ نہ کرے کوئی جان گئی تو اس کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی احکامات پر عملد رآمد یقینی بنایا جائے گا ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر دہشتگردی سے متعلق ہے۔ ہمارا مقصد صرف دہشتگردی کے خلاف مشتر کہ حکمت عملی طے کرنا تھا,مذاکرات میں دو الگ معاہدوں پر بات ہوئی، ایک اعلامیہ اور دوسرا دہشتگردی سے متعلق تھا۔ دہشتگردی سے متعلق معاہدے میں افغانستان، ٹی ٹی پی اور سابق فاٹا کے معاملات شامل تھے، جبکہ ضم شدہ اضلاع اور نیشنل ایکشن پلان بھی نکات میں شا مل تھے۔


محسن نقوی نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم نے دہشتگردی سے متعلق آؤٹ لائن شیئر کی، معمولی تحفظات بھی دور کیے گئے ہماری تجویز تھی کہ دہشتگردی سے متعلق نکات کی صرف آؤٹ لائن طے کی جائے، تفصیلات بعد میں مشترکہ اجلاس میں طے ہونی تھیں دہشتگردی کے معاملے پر بات ہوئی تو کے پی حکومت کی ٹیم نے مزید گفتگو سے انکار کیا اور دہشتگردی کے معاملے پر بات نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔


انہوں نے کہا کہ کے پی میں دہشتگردی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا وفاق اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج کے جنازوں میں شرکت اور یکجہتی کا اظہار ضروری ہے، جبکہ مقامی سطح پر دہشتگردوں کی مبینہ معاونت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف باقاعدہ معاہدہ کرنے کی ضرورت مقامی سطح پر دہشتگردوں کو پارٹی حمایت کی شکایات اور اطلاعات کے باعث پیش آئی پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دہشتگردی سے متعلق مجوزہ معاہدے میں سیاست کا کوئی نکتہ شامل نہیں تھا، بلکہ دہشتگردی کے خلاف چھ سات نکات پر مشتمل معاہدہ بالکل واضح تھا۔


ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردی کے خلاف سوچ ہے تو معاہدے پر دستخط میں ایک منٹ بھی نہیں لگنا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف معاہدے سے انکار پر حکومت کے مفادات اور ترجیحات پر سوال اٹھتے ہیں,مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا مطلب کسی کو دہشتگردوں سے جوڑنا نہیں, ہماری خواہش تھی کہ تمام نکات پر اتفاق کے بعد معاہدے پر دستخط کیے جائیں تاکہ دونوں جانب کی غلط فہمیاں ختم ہوسکیں۔


وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر حکومت اور پی ٹی آئی میں 100 فیصد اتفاق ہوگیا تھا۔ اپوزیشن سے مذاکرات میں 99 فیصد باتوں پر اتفاق ہوگیا تھامذاکرات میں اعلامیے کے تمام نکات پر مکمل اتفاق ہوگیا تھا۔ مذاکراتی کمیٹی نے 12 گھنٹے مسلسل مذاکرات میں مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور چھوٹے اور بڑے تمام مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔


محسن نقوی کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے ڈرافٹ کو ایک نہیں بلکہ چار مرتبہ حتمی شکل دی۔ ڈرافٹ کی زبان اور نکات کے تمام مسائل مذاکرات میں ایک ایک کرکے حل کیے گئے، تاہم مذاکرات کے دوران چار مرتبہ ڈرافٹ فائنل اور چار مرتبہ تبدیل ہوا فائنل ڈرافٹ میں دوبارہ کئی تبدیلیاں سامنے آنے سے پریشانی ہوئی۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد کے پی حکومت کی جانب سے بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔


محسن نقوی نے کہا کہ رات 12 سے ساڑھے 12 بجے کے دوران کے پی حکومت نے نیا ڈرافٹ پیش کردیا نئے ڈرافٹ میں مذاکرات کے دوران طے کیے گئے نکات سے مختلف چیزیں شامل کی گئیں مذاکراتی ٹیم دوسرے کمرے میں جاتی تو طے شدہ نکات دوبارہ تبدیل ہوجاتے۔ مذاکرات میں نکات طے ہونے کے باوجود بار بار تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ارکان بڑی محنت سے ڈرافٹ کو بار بار حتمی شکل دیتے رہے۔ رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چودھری اور دیگر ارکان نے بھرپور نیک نیتی سے مذاکرات کیے راجہ ناصر عباس اور دیگر ارکان سنجیدگی سے مذاکرات کر رہے تھے، تاہم مذاکراتی ارکان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ کے پی حکومت کی ٹیم مذاکرات میں تقریباً تیار تھی اور معمولی نکات پر اتفاق ہوگیا تھا۔ مذاکراتی ٹیم نے دہشتگر دی سے متعلق آؤٹ لائن شیئر کی اور معمولی تحفظات بھی دور کیے گئے کے پی حکومت سے چار گھنٹے مذاکرات کے بعد وفد کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا۔ کے پی حکومت نے وفد کو حتمی نکات پر معاہدے کا اختیار دے دیا تھا۔


محسن نقوی کے مطابق اسد قیصر نے دہشتگردی کے تمام نکات پر ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہم ان تمام نکات پر آپ کے ساتھ ہیں۔ اسد قیصر نے بھی دہشتگردی کے خلاف معاہدے پر دستخط کی حمایت کی اسد قیصر نے مذاکرات میں بعض معاملات پر مثبت اور واضح جواب دیا اور دہشتگردی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح قرار دیا۔


محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی مذاکرات ناکام کرنے یا کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی خواہش نہیں تھی۔ صدر اور وزیراعظم نے مذا کراتی کمیٹی کو ہر ممکن کوشش کی ہدایت کی تھی صدر اور وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ مذاکرات 99 فیصد کامیابی کے ساتھ مکمل کیے جا ئیں حکومت کی نیت واضح تھی کہ ہر صورت مذاکرات کامیاب کرائے جائیں صدر اور وزیراعظم کو مسلسل مذاکراتی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ صدر اور وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، ملکی مفاد میں ہوگا اور حکومت اس پر عملدرآمد کرے گی, فائنل معاہدہ لے کر صد ر مملکت کے پاس گیا اور وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی ہماری طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا ضرور کہا تھا پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ ملتوی ہو تاکہ سیاسی درجہ حرارت کم ہو بلاول بھٹو نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی ہدایت دی تھی اور پیپلز پارٹی نے مذاکرات میں لانگ مارچ ملتوی کر نے کی تجویز پیش کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہم صرف دہشتگردی کے معاملے پر کے پی حکومت کا ساتھ چاہتے تھے، باقی سیاسی معاملات پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں تھا, ہماری درخواست تھی کہ کے پی حکومت دہشتگردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ کھڑی ہو۔ دہشتگردی روکنے کے لیے پہلے مشتر کہ کوشش اور اس کے بعد سیاسی معاملات پر بات ہوسکتی ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن میں کون سی بندوق، گولی یا ڈرون استعمال ہوگا، یہ حکومت طے نہیں کرتی۔ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات طے کرنا حکومت کا نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں کا کام ہے لانگ مارچ سے اسٹاک ایکسچینج اور عوام کو مشکلات سمیت کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ لانگ مارچ سے عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔


انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کو بتا دیا تھا کہ جب آپ کا لانگ مارچ شروع ہوگا تو مذاکرات ختم ہوجائیں گے سیاسی قیادت کی ناپختگی نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ سیاست میں غیر معمولی رویوں کے باعث معاملات خراب ہوئے,اقتدار بھی انجوائے کریں اور دھونس و دھمکی بھی دیں، یہ ممکن نہیں۔ اقتدار کے ساتھ دھونس اور دھمکی کی سیاست نہیں چل سکتی,بدقسمتی سے پسِ پردہ بعض عناصر کے مفادات کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔