Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب خواہشیں ضرورت بن جائیں،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

ایک وقت تھا جب انسان اپنی ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق جانتا تھا۔ ضرورت پوری ہو جاتی تو دل شکر ادا کرتا اور خواہش پوری نہ ہوتی تو انسان صبر کر لیتا تھا۔ آج مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کم ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ حاصل ہے وہ ہمیں کم محسوس ہونے لگا ہے۔ دوسروں کے پاس موجود چیزیں ہماری اپنی زندگی کی کمی بن جاتی ہیں، اور یوں ایک ایسی دوڑ شروع ہو جاتی ہے جس کی کوئی آخری منزل نہیں۔سوشل میڈیا نے اس دوڑ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کسی کے گھر کی خوب صورتی دیکھ کر اپنا گھر معمولی لگنے لگتا ہے، کسی کے لباس کو دیکھ کر اپنا لباس پرانا محسوس ہوتا ہے، کسی کی گاڑی، سفر، تقریب یا آسائش نظر آئے تو دل میں ایک انجانی سی بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کی زندگی کا صرف وہ حصہ دکھائی دیتا ہے جو وہ دکھانا چاہتے ہیں، جبکہ ہم اپنی پوری زندگی سے اس کا موازنہ کر رہے ہوتے ہیں۔آج بہت سے لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ معاشرہ انہیں پیچھے نہ سمجھے۔ شادی ہو تو رسمیں بڑھتی جاتی ہیں، گھر بنے تو سجاوٹ کی نئی خواہش پیدا ہو جاتی ہے، موبائل موجود ہو تو نیا ماڈل چاہیے، کپڑے ہوں تو برانڈ ضروری محسوس ہونے لگتا ہے۔ مسئلہ چیز خریدنے میں نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب چیز ہماری ضرورت نہیں رہتی بلکہ ہماری حیثیت ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ہم نے آسائش کو کامیابی کا نام دے دیا ہے۔کبھی ایک سادہ سا گھر سکون کی علامت تھا، اب گھر کی قیمت اس کے اندر موجود چیزوں سے ناپی جانے لگی ہے۔ کبھی لباس جسم ڈھانپنے اور شخصیت سنوارنے کے لیے ہوتا تھا، اب لباس بعض اوقات دوسروں پر اپنی حیثیت ظاہر کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ کبھی دعوت محبت کے اظہار کا نام تھی، اب بعض مواقع پر یہ بھی مقابلے کی ایک شکل بن چکی ہے کہ کس نے کتنا خرچ کیا اور کس کی تقریب زیادہ شاندار رہی۔اس سب کے درمیان ایک خاموش حقیقت ہم سے چھپتی جا رہی ہے۔ ہر خواہش پوری کرنے کی قیمت صرف پیسہ نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی قیمت سکون ہوتا ہے، کبھی وقت، کبھی رشتے اور کبھی ذہنی اطمینان۔ایک شخص زیادہ کمانے کے لیے زیادہ کام کرتا ہے۔ زیادہ کمانے کے بعد زیادہ خرچ کرنے لگتا ہے۔ زیادہ خرچ کے بعد مزید کمانے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا اور آخرکار وہ چیزیں جمع کرتا رہتا ہے جن کے لیے اس نے وہ رشتے اور لمحے قربان کیے تھے جنہیں واپس خریدنا ممکن نہیں۔یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ ہم بچوں کو ہر چیز فراہم کرنے کو محبت سمجھنے لگے ہیں۔ بچے کی ہر فرمائش پوری کرنا آسان ہے، مگر اسے انتظار کرنا سکھانا مشکل۔ اسے مہنگی چیز خرید دینا آسان ہے، مگر یہ سمجھانا مشکل کہ ہر خواہش فوراً پوری ہونا ضروری نہیں۔ ہم انجانے میں ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو چیزوں کی قیمت تو جانتی ہے مگر انتظار کی قدر نہیں جانتی۔ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا محرومی نہیں، شعور ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی نہ کرے، اچھا لباس نہ پہنے، خوب صورت گھر نہ بنائے یا اپنی زندگی میں آسائشیں نہ لائے۔ ترقی اور آسائش بری چیزیں نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان چیزوں پر ہمارا اختیار ہے یا ہم خود ان کے غلام بن چکے ہیں؟اگر ہماری آمدن ہمیں اجازت دیتی ہے تو بہتر زندگی گزارنا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اپنی استطاعت سے بڑھ کر صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے خرچ کرنا ہمیں اندر سے کمزور کرتا ہے۔ قرض لے کر نمود و نمائش کرنا، پھر اسی قرض کی فکر میں سکون کھو دینا، آخر کس کامیابی کا نام ہے؟ہمیں شاید ایک بار پھر اپنی ترجیحات کی فہرست بنانی ہوگی۔ یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے، اس میں سے واقعی کتنا ضروری ہے اور کتنا صرف دوسروں کو دیکھ کر ہماری خواہش بن گیا ہے۔ ہر نئی چیز ہمارے لیے ضروری نہیں ہوتی، ہر مقبول چیز ہمارے لیے موزوں نہیں ہوتی اور ہر وہ زندگی جو خوب صورت دکھائی دیتی ہے، ضروری نہیں کہ اندر سے بھی اتنی ہی پرسکون ہو۔کبھی کبھی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نیا حاصل کرنا نہیں بلکہ غیرضروری خواہشوں کو چھوڑ دینا ضروری ہوتا ہے۔شاید سکون اس دن واپس آنا شروع ہو جائے جب ہم دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنا چھوڑ دیں گے۔ جب بچوں کو چیزوں کے بجائے وقت دیں گے، گھروں کو نمائش کے بجائے محبت سے آباد کریں گے، اور اپنی حیثیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی ضرورت سمجھ کر خرچ کریں گے۔کیونکہ زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہو جائے۔ اصل کامیابی شاید یہ ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے، ہم اسے قدر، شکر اور اطمینان کے ساتھ جینا سیکھ جائیں۔