Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تیل کی بڑھتی قیمتیں اور ٹرانسپورٹر کا مشکل سفر،تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

ملک میں مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والا اضافہ ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ لوڈر گاڑی ہو، بس ہو، ویگن ہو یا کوئی دوسری مسافر گاڑی، ایندھن کی قیمت بڑھتے ہی اس کے روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔


ٹرانسپورٹر کا کہنا ہے کہ ایک طرف ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہو رہا ہے، دوسری طرف گاڑیوں کے ٹائر، سپیئر پارٹس، انجن آئل، مرمت اور دیگر اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر کی اجرت، گاڑی کے کاغذات، ٹوکن ٹیکس اور دیگر اخراجات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایسے حالات میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار پہلے جیسا منافع بخش نہیں رہا۔


مسافر گاڑیوں کے مالکان کے لیے صورتحال مزید مشکل ہے۔ اگر کرایہ بڑھایا جائے تو مسافر پریشان ہوتے ہیں اور اگر کرایہ نہ بڑھایا جائے تو ٹرانسپورٹر کے لیے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتے ہیں۔ یوں اس پورے معاملے کا بوجھ بالآخر ٹرانسپورٹر اور عام مسافر دونوں پر پڑتا ہے۔


دوسری طرف ٹرانسپورٹرز کی ایک بڑی شکایت چالانوں کی کثرت بھی ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی اور سڑکوں پر نظم و ضبط یقیناً ضروری ہے، لیکن ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر بار بار جرمانے ان کے لیے اضافی مالی بوجھ بن رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ چھوٹے ٹرانسپورٹرز جو ایک یا دو گاڑیوں سے اپنے خاندان کا روزگار چلا رہے ہیں، ان کے لیے مسلسل بڑھتے اخراجات اور جرمانے برداشت کرنا آسان نہیں۔


یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹرانسپورٹر کو صرف جرمانے کرنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ یقیناً قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنیں اور ایسا نظام بنائیں جس میں قانون کی پابندی بھی ہو اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔


خاص طور پر لوڈر گاڑیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ روزانہ گاڑی سڑک پر نکالنے کے بعد انہیں ایندھن، مرمت اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر راستے میں جرمانوں اور دیگر اخراجات کا سامنا بھی ہو تو دن بھر کی آمدنی کا بڑا حصہ اخراجات میں چلا جاتا ہے۔


مسافر ٹرانسپورٹ بھی کسی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مزدور، طالب علم، ملازمین، مریض اور عام شہری روزانہ بسوں، ویگنوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اگر ٹرانسپورٹر مشکلات کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات براہ راست مسافروں تک پہنچیں گے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کرایوں اور ٹرانسپورٹرز کے اخراجات کے درمیان ایک متوازن نظام تشکیل دے۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ضرور کیا جائے، مگر اس کے ساتھ ٹرانسپورٹرز کی جائز شکایات بھی سنی جائیں۔ چھوٹے ٹرانسپورٹرز کے لیے آسان اقساط، مناسب ٹیکس پالیسی، گاڑیوں کی فٹنس اور قانونی معاملات میں سہولت جیسے اقدامات بھی زیر غور لائے جا سکتے ہیں۔


میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک ٹرانسپورٹر مسلسل بڑھتے ہوئے ایندھن، مرمت، ٹیکس اور جرمانوں کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہا تو آخر وہ اپنا کاروبار کیسے جاری رکھے گا؟ اور اگر ٹرانسپورٹر کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہوا تو اس کا اثر صرف ایک شخص یا ایک خاندان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہری بھی متاثر ہوں گے۔


ٹرانسپورٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، وہ بھی اپنے خاندان کا روزگار چلا رہا ہے۔ اس لیے ضرورت صرف چالان کرنے کی نہیں بلکہ مسئلے کا مستقل اور متوازن حل تلاش کرنے کی ہے۔