ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسکرین کے اُس پار ،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

بچے انٹرنیٹ پر کہاں کھو رہے ہیں ایک اٹھارہ سالہ بچی کا ڈارک ویب پر مبینہ طور پر ایک گیم کا ٹاسک پورا کرتے ہوئے خطرے میں پڑ جانا اور این سی سی آئی اے کی بروقت کارروائی سے اس کی جان بچ جانا محض ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ایسا لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہر گھر میں گفتگو ہونی چاہیے کیونکہ آج خطرہ صرف گلیوں بازاروں یا اجنبی راستوں میں نہیں بلکہ ان موبائل فونز کے اندر بھی موجود ہے جنہیں ہم اپنے بچوں کی تفریح اور سہولت کا ذریعہ سمجھ کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کی زندگی کے ہر ظاہری پہلو سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے اسکول جانے کے اوقات ان کے امتحانات ان کے دوستوں ان کے لباس اور ان کی خوراک تک ہماری نظر ہوتی ہے لیکن جب یہی بچے کمرے کا دروازہ بند کرکے گھنٹوں موبائل کی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں تو اکثر گھروں میں کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ اس اسکرین کے دوسری طرف کون ہے کس سے بات ہو رہی ہے کس قسم کے لوگوں سے رابطہ قائم ہے اور کون سا مواد ان کے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ گھر میں موجود ہے اس لیے محفوظ ہے حالانکہ ڈیجیٹل دنیا میں موجود کوئی اجنبی شخص ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی ہمارے بچے کی سوچ اس کے جذبات اور اس کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس واقعے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بچوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر ہمیشہ ابتدا ہی سے اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کرتے وہ دوستی کرتے ہیں اعتماد حاصل کرتے ہیں دلچسپ گیمز اور چیلنجز کے ذریعے بچوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایسے مطالبات کی طرف لے جاتے ہیں جن کا مقصد محض تفریح نہیں بلکہ ان پر قابو پانا ہوتا ہے ابتدا میں ایک معمولی سا ٹاسک دیا جاتا ہے پھر اسے پورا کرنے پر مزید چیلنج سامنے آتا ہے اور جب بچہ اس سلسلے میں وقت اور جذبات صرف کر چکا ہوتا ہے تو بعض عناصر اسے دھمکیوں بلیک میلنگ یا خوف کے ذریعے اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ اسے اپنی سلامتی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر آن لائن گیم خطرناک نہیں اور نہ ہی ہر اجنبی رابطہ کسی سازش کا حصہ ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص بچے کو خود کو نقصان پہنچانے کی ہدایت دے اس سے راز رکھنے کا مطالبہ کرے یا دھمکی کے ذریعے کسی کام پر مجبور کرے تو یہ تفریح نہیں بلکہ ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے انٹرنیٹ پر کہاں مشغول ہیں اور ہم ان کی ڈیجیٹل زندگی سے کتنے واقف ہیں آج بچوں کے پاس موبائل فون ہے انٹرنیٹ کی سہولت ہے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم ہیں آن لائن گیمز ہیں اور ایسے بے شمار رابطے ہیں جن تک والدین کی رسائی یا معلومات محدود ہیں بچے بظاہر گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ان کی توجہ کسی ایسے شخص کے پاس ہو سکتی ہے جسے ان کے والدین نے کبھی دیکھا تک نہیں ہوتا وہ کسی ایسے گروپ کا حصہ ہو سکتے ہیں جس کے مقاصد سے ان کے گھر والے ناواقف ہوں یا کسی ایسے شخص کے دباؤ میں آ سکتے ہیں جس نے پہلے دوستی اور ہمدردی کا نقاب پہن رکھا ہو اس لیے اب والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ بچوں کو موبائل خرید کر دیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں اس موبائل کے محفوظ استعمال کی تربیت دیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے بچے ڈیجیٹل دنیا میں کس قسم کے تجربات سے گزر رہے ہیں۔

ڈارک ویب کا نام سنتے ہی بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک خوفناک اور پراسرار دنیا کا تصور ابھرتا ہے لیکن اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم حقائق اور افواہوں میں فرق کریں ڈارک ویب انٹرنیٹ کا ایسا حصہ ہے جس تک رسائی کے لیے عام طور پر مخصوص سافٹ ویئر درکار ہوتا ہے اور اس کے تمام استعمال غیر قانونی نہیں ہوتے تاہم اس کی نسبتاً گمنام فضا کا فائدہ اٹھا کر بعض مجرمانہ عناصر غیر قانونی سرگرمیوں بلیک میلنگ اور آن لائن استحصال کے لیے اسے استعمال کر سکتے ہیں بچوں کے لیے خطرہ صرف ڈارک ویب تک پہنچنے میں نہیں بلکہ اس سے پہلے قائم ہونے والے ان رابطوں میں بھی ہو سکتا ہے جو انہیں عام سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے اپنی طرف کھینچتے ہیں کسی بچے کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ جس شخص سے وہ دوستی کر رہا ہے وہ اس کی معصومیت اور اعتماد کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

یہاں والدین کو اپنے رویے پر بھی غور کرنا ہوگا کیونکہ بعض اوقات بچے کسی خطرناک رابطے کا شکار ہونے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کو کچھ بتانے سے ڈرتے ہیں انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ موبائل چھین لیا جائے گا انہیں سخت سزا دی جائے گی ان کی کردار کشی کی جائے گی یا ان کی بات سننے کے بجائے انہیں ہی قصوروار ٹھہرا دیا جائے گا یہی خوف انہیں خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے اور بعض حالات میں یہ خاموشی خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے والدین کو اپنے بچوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں وہ کسی بھی پریشانی کے بارے میں بلا خوف بات کر سکیں انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ کسی اجنبی کے جال میں پھنس گئے ہیں کسی کو اپنی تصویر بھیج چکے ہیں یا کسی خطرناک ٹاسک پر عمل کر بیٹھے ہیں تو ان کے والدین پہلے ان کی سلامتی کو ترجیح دیں گے اور بعد میں معاملے کو سمجھ کر مناسب قدم اٹھائیں گے بچے کی غلطی کی اصلاح ضروری ہے لیکن اس کی زندگی اور تحفظ ہر دوسری بات سے زیادہ اہم ہیں۔

بچوں کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی بچہ اچانک بہت زیادہ خاموش رہنے لگے لوگوں سے کٹنے لگے غیر معمولی خوف یا اضطراب محسوس کرے راتوں کو مسلسل جاگتا رہے یا کسی مخصوص آن لائن رابطے کے بعد پریشان دکھائی دے تو والدین کو اس کے ساتھ محبت اور تحمل سے بات کرنی چاہیے یہ ضروری نہیں کہ ہر تبدیلی کسی خطرناک سرگرمی کی علامت ہو لیکن بچے کی ذہنی کیفیت کو سمجھنا والدین کی ذمہ داری ضرور ہے بچوں کو ڈانٹنے یا ان پر شک کرنے کے بجائے ان سے پوچھنا چاہیے کہ کیا کوئی انہیں پریشان کر رہا ہے کیا کسی نے انہیں کوئی ایسا کام کرنے کو کہا ہے جس سے وہ خوف زدہ ہیں اور کیا انہیں کسی قسم کی دھمکی دی جا رہی ہے بعض اوقات والدین کی ایک سنجیدہ گفتگو کسی بڑے نقصان کو روکنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف موبائل فون پر پابندی لگانا نہیں بلکہ بچوں کو ڈیجیٹل شعور دینا ہے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی عمر کے مطابق انٹرنیٹ کے استعمال کے اصول طے کریں نامعلوم افراد کے ساتھ ذاتی معلومات شیئر کرنے کے خطرات سمجھائیں تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں سکھائیں کہ کسی بھی شخص کے دباؤ میں آکر کوئی خطرناک ٹاسک پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا بچوں کو یہ بات ذہن نشین کرانی چاہیے کہ کوئی گیم کسی کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں اور اگر کوئی شخص انہیں خود کو نقصان پہنچانے کا کہے تو اسے فوراً اطلاع دینی چاہیے ایسے معاملات میں پیرنٹل کنٹرولز اور پرائیویسی سیٹنگز مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کے یہ ذرائع والدین کی گفتگو اور توجہ کا متبادل نہیں بن سکتے کیونکہ کوئی بھی نظام ہر خطرے کو مکمل طور پر روکنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہے اسکولوں میں بچوں کو صرف کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنا نہیں سکھانا چاہیے بلکہ انہیں آن لائن تحفظ کے اصولوں سے بھی آگاہ کرنا چاہیے انہیں بتایا جائے کہ سائبر بلیک میلنگ کیا ہے جعلی شناخت کے ذریعے اعتماد کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور خطرناک آن لائن رابطے کی صورت میں کس سے مدد مانگنی چاہیے اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس ہونے پر معاملے کو محض نافرمانی یا بدتمیزی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ مناسب انداز میں ان کی مدد کریں دوسری طرف متعلقہ اداروں کو سائبر جرائم کی تحقیقات مؤثر بنانی چاہییں اور ایسے معاملات میں متاثرہ بچوں کی شناخت اور نجی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے این سی سی آئی اے کی بروقت کارروائی اگر کسی بچے کو نقصان سے بچانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ قابل قدر امر ہے لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہم ایسے خطرات سے بچاؤ کے لیے خاندان اسکول اور ریاست تینوں سطحوں پر سنجیدہ اقدامات کریں گے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کے بچے صرف اپنے والدین کی دنیا میں نہیں رہتے بلکہ وہ ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ ہیں جہاں معلومات کی فراوانی کے ساتھ دھوکے اور استحصال کے امکانات بھی موجود ہیں اگر ہم ان کے سوالات کا جواب نہیں دیں گے تو وہ جواب کسی اور سے تلاش کریں گے اگر ہم ان کی بات نہیں سنیں گے تو ممکن ہے وہ اپنی پریشانی کسی اجنبی کے سامنے بیان کرنے لگیں اور اگر ہم ان کے اعتماد کو مسلسل سزا اور پابندیوں سے کمزور کرتے رہیں گے تو وہ اپنی زندگی کے اہم معاملات ہم سے چھپانا سیکھ سکتے ہیں والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا ان کی دلچسپیوں کو سمجھنا ہوگا اور انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ ان کے مسائل خواہ کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں گھر کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔

آخر میں یہ سوال ہر والدین کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا ہمیں اپنے بچے کی صرف حقیقی دنیا کی خبر ہے یا ہم اس کی ڈیجیٹل دنیا سے بھی واقف ہیں کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ کس سے بات کرتا ہے کون سی گیم کھیلتا ہے اور کیا اسے یہ اعتماد حاصل ہے کہ کسی خطرے کی صورت میں وہ سب سے پہلے ہمارے پاس آئے گا آج کسی ایک بچی کی جان بچنے کی خبر ہمیں وقتی سکون دے سکتی ہے لیکن یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر خطرے کے سامنے کسی ادارے کی بروقت کارروائی کا انتظار نہیں کیا جا سکتا والدین کی توجہ بچوں کی تربیت ان کا اعتماد اور ڈیجیٹل دنیا کے بارے میں آگاہی ہی وہ پہلی دیوار ہیں جو انہیں بہت سے خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہیں ہمیں بچوں سے موبائل چھیننے سے پہلے ان کے دل تک رسائی حاصل کرنا ہوگی کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف ان کے کمرے کے دروازے بند کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ ان کے اعتماد کے دروازے کھلے رکھنے سے ہوتی ہے۔