گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنا خوش آئند ہے،خالد محمود کھوکھر

صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنا خوش آئند ہے، اس فیصلے سے زراعت دوبارہ درست سمت میں آ سکے گی اور رواں سیزن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ گندم کاشت ہونے کی توقع ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ گندم تمام فصلوں کا انجن ہے اور اس کی قیمت سے متعلق بروقت فیصلے کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا۔ کسان کو فائدہ پہنچانا دراصل زراعت کو فائدہ پہنچانا ہے، تاہم زرعی شعبے کی ترقی کے لیے حکومتی پالیسیوں میں بہتری لانا بھی ضروری ہے۔صدر پاکستان کسان اتحاد نے دعویٰ کیا کہ آئندہ 6 ماہ میں ملک غذائی بحران سے نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت سے گندم کی خریداری کا واضح طریقہ کار طے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں گندم کی کاشت کسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔
خالد محمود کھوکھر نے زور دیا کہ حکومت کو زرعی شعبے کے لیے آئندہ 10 سال کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، کیونکہ دنیا بھر میں زرعی پالیسیاں کم از کم 10 سال کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ آبادی 26 کروڑ ہے اور آئندہ 10 سال میں اس میں مزید 6 کروڑ اضافے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ہر سال اپنی آبادی میں ایک نئے نیوزی لینڈ کے برابر اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے زرعی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔صدر پاکستان کسان اتحاد نے پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو پانی کی دستیابی میں 20 سے 25 فیصد کمی کا سامنا ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں فصلوں کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، ایسے حالات میں پاکستان کو غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے مؤثر زرعی پالیسیوں، پانی کے بہتر انتظام اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
مزید پڑھیں





