ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیٹیاں رحمت ہیں،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوش حالی اور تہذیبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں عورت کو کتنا احترام دیا جاتا ہے، بیٹی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ جس معاشرے میں بیٹی کی پیدائش پر چہروں پر اداسی چھا جائے، جہاں اس کی خواہشات کو بوجھ سمجھا جائے اور جہاں اس کی تعلیم کو غیر ضروری خیال کیا جائے، وہاں ترقی کے خواب تو دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی تعبیر مشکل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں رحمت ہیں، زحمت نہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔ بیٹی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ وہ گھر کی رونق، والدین کی محبت اور مستقبل کی معمار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے کے بعض حلقوں میں آج بھی بیٹی کی پیدائش کو خوشی کے بجائے پریشانی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ کہیں اسے معاشی بوجھ تصور کیا جاتا ہے، کہیں اس کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور کہیں اسے اس بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے جو ایک مہذب اور باشعور معاشرے میں ہر بچے کو حاصل ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جو بیٹی کل ایک گھر کی ذمہ دار، ایک خاندان کی تربیت کرنے والی اور آنے والی نسلوں کی رہنما بن سکتی ہے، اسے آج تعلیم سے محروم کرکے ہم کس روشن مستقبل کی امید رکھتے ہیں؟

اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور حقوق عطا کیے ہیں۔ قرآن مجید نے بیٹی کی پیدائش پر غمگین ہونے والی جاہلانہ سوچ کی مذمت کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی پرورش، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی۔ اس لیے بیٹی کو کم تر سمجھنا، اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا یا اسے محض ایک بوجھ تصور کرنا اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہم رسم و رواج، فرسودہ سوچ اور معاشرتی دباؤ کے نام پر اپنی ہی بیٹیوں کے مستقبل کے دروازے تو بند نہیں کر رہے۔ تعلیم بچی کا حق ہے، احسان نہیں۔ تعلیم انسان کو شعور عطا کرتی ہے، صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے اور زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہ صرف اپنے لیے بہتر مستقبل تعمیر کر سکتی ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ ڈاکٹر، استاد، سائنس دان، وکیل، محقق، منتظم اور مختلف شعبوں میں کامیاب رہنما بن سکتی ہے۔ اس کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے سے نہ صرف اس کی ذات نکھرتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی علم، ہنر اور مثبت سوچ کی دولت حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچیوں کی تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایک باشعور، خود اعتماد، ذمہ دار اور باکردار انسان بنانا ہے۔ تعلیم یافتہ لڑکی اپنے حقوق اور فرائض کو بہتر طور پر سمجھتی ہے، مشکلات میں مناسب فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا رکھتی ہے اور معاشرتی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی بہتر تربیت، صحت و صفائی کے شعور، اخلاقی اقدار اور علم دوستی کے فروغ میں بھی اہم حصہ ڈال سکتی ہے۔ یوں ایک بچی کی تعلیم کے اثرات ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔ اگر علم کے ساتھ اخلاق، احترام، برداشت، دیانت داری، ذمہ داری اور انسان دوستی پیدا نہ ہو تو تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ بچیوں کی تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں خوف، پابندیوں اور احساسِ کمتری میں مبتلا رکھا جائے، بلکہ اس کا اصل مقصد انہیں اعتماد، شائستگی، خود داری اور اچھے برے کی پہچان سے آراستہ کرنا ہے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ اپنے بزرگوں کا احترام کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، سچائی کو اپنائیں، اپنی عزت و وقار کی حفاظت کریں اور زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز کا حکمت اور حوصلے سے سامنا کریں۔ یہ ذمہ داری صرف ماں کی نہیں، نہ صرف باپ کی، بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تعلیم پر یکساں توجہ دیں، ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مناسب موقع دیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ بچیوں کے لیے محفوظ، باوقار اور حوصلہ افزا تعلیمی ماحول فراہم کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچی کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں غربت، فاصلے، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور معاشرتی رکاوٹیں لڑکیوں کی تعلیم میں حائل ہیں۔ ہمیں ان خاندانوں کے مسائل کو بھی سمجھنا ہوگا جہاں غربت کے باعث بچیوں کو اسکول بھیجنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض والدین وسائل کی کمی، تحفظ کے خدشات یا معاشرتی دباؤ کے باعث اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ ایسے حالات میں محض تنقید کافی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی سہولتیں بہتر بنائی جائیں، والدین میں شعور بیدار کیا جائے، مستحق خاندانوں کی مدد کی جائے اور بچیوں کے لیے محفوظ تعلیمی مواقع پیدا کیے جائیں۔ معاشرے کی حقیقی خدمت یہی ہے کہ رکاوٹوں کو دور کرکے ہر بچی کے لیے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کی جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات بیٹیوں کے لیے خواب دیکھنے کی حدود مقرر کر دی جاتی ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی خواہشات کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیں، لیکن ان کی اپنی صلاحیتوں اور مستقبل کے بارے میں کم ہی سوچا جاتا ہے۔ ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ بیٹی کو صرف ذمہ داریوں کا احساس نہ دلایا جائے، بلکہ اسے مواقع بھی دیے جائیں۔ اسے یہ اعتماد دیا جائے کہ محنت، علم، کردار اور مستقل مزاجی کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کی رائے سنی جائے، اس کے سوالات کے جواب دیے جائیں اور اس کی کامیابیوں پر اسی طرح خوشی منائی جائے جس طرح بیٹے کی کامیابی پر منائی جاتی ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بچیوں کی تعلیم کو بیٹوں کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کی تعلیم کو ایک دوسرے کی تکمیل سمجھا جائے۔ ایک مضبوط معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف لڑکے تعلیم یافتہ ہوں یا صرف لڑکیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں، بلکہ وہ معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جہاں ہر بچے کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرنے کا موقع دیا جائے۔ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ معاشرے کی تعمیر میں شریک ہیں۔ دونوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی ہی ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی بچی کل کی شہری، بہتر ماں، رہنما اور معاشرتی تبدیلی کی علم بردار ہو سکتی ہے۔ اگر ہم آج اسے تعلیم سے محروم کریں گے تو درحقیقت ہم اپنے کل کو محدود کر رہے ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اسے علم، شعور، ہنر اور اخلاقی تربیت سے آراستہ کریں گے تو وہ اپنی ذات کے ساتھ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ کسی قوم کی اصل دولت صرف اس کے وسائل، عمارتیں اور معاشی طاقت نہیں ہوتے، بلکہ اس کے تعلیم یافتہ، باکردار اور باشعور افراد ہوتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض تقریروں میں بیٹیوں کی عظمت بیان نہ کریں بلکہ اپنے عملی رویوں سے بھی ان کی قدر ثابت کریں۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی منائیں، اسے اچھی غذا اور صحت کی سہولتیں فراہم کریں، اس کی تعلیم کا بندوبست کریں، اس کی تربیت پر توجہ دیں اور اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اس کا ساتھ دیں۔ اگر کسی بچی کو تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے تو ہمیں اس محرومی کو معمول سمجھنے کے بجائے اس کے اسباب دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ بیٹی کو رحمت سمجھنا صرف ایک خوب صورت جملہ نہیں، بلکہ ایک عملی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ، اپنے رویوں اور اپنے معاشرتی نظام میں مثبت تبدیلی لائیں۔ بچیوں کو تعلیم دیں، انہیں اچھے اخلاق سے آراستہ کریں، ان کے حقوق کا احترام کریں اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کریں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم بیٹی کو بوجھ نہیں، اپنی قوت سمجھیں گے۔ اس کی تعلیم کو خرچ نہیں، سرمایہ کاری سمجھیں گے اور اس کی تربیت کو محض خاندانی معاملہ نہیں، قومی فریضہ تصور کریں گے۔ کیونکہ جس معاشرے کی بیٹیاں تعلیم یافتہ، باکردار، بااعتماد اور باشعور ہوں، اس معاشرے کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں اور اس کا مستقبل روشن ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یاد رکھیے! بیٹی کی تعلیم ایک فرد کی کامیابی نہیں، ایک نسل کی بیداری ہے اور بیٹی کی اچھی تربیت صرف ایک گھر کی خوش حالی نہیں، پورے معاشرے کی اصلاح کا راستہ ہے۔ بیٹیاں رحمت ہیں، زحمت نہیں اس ایک نقطے کا فرق اگر ہم سمجھ جائیں تو ہمیں بیٹی کی قدر سمجھ آجائے گی انہیں علم دیجیے، اعتماد دیجیے اور آگے بڑھنے کا موقع دیجیے، کیونکہ یہی ایک مہذب، مضبوط اور روشن معاشرے کی پہچان ہے۔