Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورتوں والی باتیں مت کرو،تحریر : ثوبیہ راجپوت

نقطہ نظر

اکثر میں مرد حضرات کے منہ سے یہ جملہ سنتی ہوں کہ عورتوں والی باتیں مت کرو یا تم بھی عورتوں جیسی چھوٹی چھوٹی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔

میں سوچتی ہوں کہ آخر عورتوں والی بات ہوتی کیا ہے؟

اگر ہم ذرا گہرائی میں جائیں تو ہمیں سمجھ آئے گا کہ عورت کی ایک اپنی دنیا ہوتی ہے ایک اپنا جہان ہوتا ہے۔

مگر اس جہان کی بنیاد بھی تو ہمارے معاشرے نے خود رکھی ہے۔ایک عورت کو بچپن سے گھرداری سکھائی جاتی ہے۔ اسے گھر سنبھالنا رشتے نبھانا سسرال کے طور طریقے سمجھنا دیور دیورانی نند ساس اور سسر کے رشتوں میں رہنا سکھایا جاتا ہے۔ اسے زیادہ تر گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے خاندان محلے داری اور اردگرد کے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔تو پھر جب اس کی گفتگو اسی دنیا کے گرد گھومے گی تو اس میں کیا عجیب بات ہے؟

اس کے شکوے بھی وہیں سے نکلیں گے اس کی خوشیاں بھی وہیں سے آئیں گی اور اس کی پریشانیاں بھی زیادہ تر اسی دائرے سے متعلق ہوں گی۔

کسی مشترکہ خاندان میں رہنے والی عورت کا شکوہ ہوسکتا ہے کہ اسے اپنی پسند کا کھانا نہیں ملا اسے آرام کا موقع نہیں ملا گھر میں اس کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوا یا فلاں رشتے دار نے اسے کوئی بات کہہ دی۔ عورت کے لیے اس کا میک اَپ زیور کپڑے جوتے گھر کا سامان کچن اور اس کے بچے معمولی چیزیں نہیں ہوتیں۔ یہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ اس کی دنیا یہی ہے تو اس کے احساسات بھی اسی دنیا سے جنم لیں گے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ پہلے عورت کو ایک محدود جہان دیا جاتا ہے پھر اسی جہان سے پیدا ہونے والی اس کی سوچ اور شکایات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔اس سے کہا جاتا ہے:

یہ کیا عورتوں والی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو؟

میں پوچھتی ہوں اگر وہ عورتوں والی بات نہیں کرے گی تو کیا کرے گی؟

جس دنیا کو دیکھنے سمجھنے اور تجربہ کرنے کے مواقع اسے دیے ہی نہیں گئے وہ اس دنیا کے مسائل پر کیسے بات کرے گی؟

یہاں ایک اور تضاد بھی بہت دلچسپ ہے۔بعض مرد اپنی گھریلو بیوی کا موازنہ ایسی عورت سے کرنے لگتے ہیں جو زیادہ آزادانہ ماحول میں پلی بڑھی ہو تعلیم یافتہ ہو کاروباری یا پیشہ ورانہ دنیا سے وابستہ ہو مختلف لوگوں سے ملتی ہو مردوں اور عورتوں دونوں کے ساتھ کام کرتی ہو اور گھر سے باہر کی دنیا کے معاملات کو بھی سمجھتی ہو۔ایسی عورت یقیناً زیادہ پراعتماد اور گفتگو میں زیادہ وسیع نظر آ سکتی ہے کیونکہ اس نے زندگی کے دونوں پہلو دیکھے ہوتے ہیں۔ اس نے گھر بھی دیکھا ہوتا ہے اور باہر کی دنیا بھی۔ اس نے رشتے داریاں بھی دیکھی ہوتی ہیں اور کاروباری و سماجی معاملات بھی۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایسی عورت دوسری عورتوں سے بہتر ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے تجربات کا دائرہ وسیع ہے اس لیے اس کی گفتگو اور سوچ میں بھی وسعت آ گئی ہے۔غلطی وہاں ہوتی ہے جب ایک مرد اس وسیع تجربے والی عورت کو دیکھ کر اپنی گھریلو بیوی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ جس عورت کو اس نے برسوں گھر کی چار دیواری میں رکھا جس کی ترجیحات گھر بچے اور خاندان بنیں جسے باہر کی دنیا سے زیادہ واسطہ رکھنے کا موقع نہیں ملا وہ اچانک اسی معیار پر کیسے پوری اترے گی جو ایک ایسی عورت کا ہے جس نے زندگی کے دونوں رخ قریب سے دیکھے ہیں؟

اگر واقعی مرد اپنی بیوی کو زیادہ سمجھدار باشعور اور پراعتماد دیکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کی دنیا وسیع کرنے میں اس کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ اس کی محدود دنیا کا مذاق اڑانا چاہیے۔عورت کو باہر کی دنیا دکھائیں اسے پڑھنے دیں سیکھنے دیں لوگوں سے ملنے دیں اپنی رائے قائم کرنے دیں فیصلے کرنے کا موقع دیں۔ پھر دیکھیے اس کی گفتگو میں بھی وسعت آئے گی اس کے سوال بھی بدلیں گے اور اس کی سوچ بھی وسیع ہوگی۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عورت کی بات کو عورتوں والی بات کہہ کر رد کرنا دراصل اس کے احساسات کو رد کرنا ہے۔

ہر شکایت معمولی نہیں ہوتی اور ہر چھوٹی بات کے پیچھے کبھی نہ کبھی کوئی بڑا احساس چھپا ہوتا ہے۔جب عورت کھانے کی شکایت کر رہی ہوتی ہے تو اصل میں وہ توجہ چاہتی ہے۔

کبھی وہ کپڑوں کی بات کر رہی ہوتی ہے مگر اصل میں وہ اہمیت چاہتی ہے۔جب وہ بچے کی کسی ضرورت پر اصرار کر رہی ہوتی ہے تو وہ چاہتی ہے کہ اس کے شوہر کو اس کی اور اس کے بچوں کی ضروریات کا احساس ہو۔

اور جب وہ ایک معمولی سی بات پر ناراض دکھائی دیتی ہے تو اس ناراضی کے پیچھے کئی دنوں مہینوں یا برسوں کی نظرانداز کی گئی کیفیت ہوتی ہے۔اس لیے عورت کی بات کو اس کے الفاظ سے نہیں اس کے پس منظر سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

کیونکہ جس عورت کو آپ نے ایک چھوٹی سی دنیا دی ہے اسے اس دنیا کے مسائل پر بات کرنے کا بھی حق ہے۔اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ بڑی دنیا کی بات کرے تو پہلے اسے بڑی دنیا دیکھنے سمجھنے اور اس کا حصہ بننے کا حق بھی دیجیے۔پھر شاید اسے یہ سننے کی ضرورت نہ پڑےکہ عورتوں والی باتیں مت کرو۔

کیونکہ وہ صرف عورتوں والی بات نہیں کر رہی ہوگی

وہ اپنے تجربے اپنی زندگی اور اپنے جہان کی بات کر رہی ہوگی۔